کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: شریح بن عبید حضرمی کی سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِمَامُ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا مقدام بن معدی کرب اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امام جب لوگوں میں فتنہ چاہتا ہے تو وہ انہیں بگاڑ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17785
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 275، حدیث 651
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَكُونُ رَجُلٌ عَلَى قَوْمٍ إِلَّا جَاءَ يَقْدُمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ رَايَةٌ يَحْمِلُهَا، وَهُمْ يَتَّبِعُونَهُ فَيُسْأَلُ عَنْهُمْ وَيُسْأَلُونَ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی بھی آدمی کسی قوم پر حکمران نہیں بنتا مگر وہ قیامت کے دن اپنے آگے ایک جھنڈا اٹھائے ان کی قیادت کرتا ہوا آئے گا، اور وہ اس کے پیچھے چلیں گے، پھر ان کے بارے میں اس سے سوال کیا جائے گا اور اس کے بارے میں ان سے سوال کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17786
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 275، حدیث 652
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قَوْمِكَ فَأَوْصِهِمْ بِنَا، فَقَالَ لَهُمْ: «أُذَكِّرُكُمُ اللهَ لَا تَبْغُوا عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي» ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: «سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ، فَأَدُّوا طَاعَتَهُمْ، فَإِنَّ الْأَمِيرَ مِثْلُ الْمِجَنِّ يُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَصْلَحُوا وَأَمَرُوكُمْ بِخَيْرٍ فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاؤُوا فِيمَا أَمَرُوكُمْ فَهُوَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بَرَاءٌ، إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا اتَّبَعَ الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ»
ترجمہ
…اور سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ معاملہ آپ کی قوم میں ہے، تو ہمارے بارے میں انہیں وصیت فرمائیں۔ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں کہ میرے بعد میری امت پر زیادتی نہ کرنا۔“ پھر لوگوں سے فرمایا: ”میرے بعد کچھ امیر ہوں گے، تو ان کی اطاعت ادا کرو، کیونکہ امیر ڈھال کی مانند ہے جس کے ذریعے دشمن سے بچا جاتا ہے، اگر انہوں نے اصلاح کی اور تمہیں بھلائی کا حکم دیا تو یہ تمہارے لیے بھی ہے اور ان کے لیے بھی، اور اگر انہوں نے برائی کی تو یہ ان پر ہے اور تم اس سے بری ہو، بےشک امیر جب لوگوں میں فتنہ چاہتا ہے تو وہ انہیں بگاڑ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17787
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 276، حدیث 653