کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبداللہ بن شداد بن ہاد کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ، فَقِيلَ لِي: خَرَجَ، فَجَعَلْتُ لَا أَمُرُّ بِأَحَدٍ إِلَّا قَالَ: مَرَّ قَبْلُ، فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قُلْتُ: لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً طَوِيلَةً قَالَ: «إِنِّي صَلَّيْتُ رَغْبَةً وَرَهْبَةً، سَأَلْتُ اللهَ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِيَ اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا لَيْسَ مِنْهُمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ»
ترجمہ
…تو مجھے بتایا گیا: وہ نکل چکے ہیں، تو میں جس کسی کے پاس سے بھی گزرتا وہ کہتا: وہ پہلے گزر چکے، پھر میں نے انہیں کھڑے نماز پڑھتے پایا، تو جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کی تو میں نے عرض کیا: آپ نے بہت لمبی نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے رغبت اور رہبت کی نماز پڑھی، میں نے اللہ سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک مجھ سے روک لی، میں نے اس سے یہ مانگا کہ وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی، اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو غالب نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی، اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ان کی آپس کی لڑائی نہ رکھے، تو اس نے یہ مجھے واپس کر دی (نہیں دی)۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17442
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 148، حدیث 306
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةً فَأَطَالَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ أَطَلْتَ الْيَوْمَ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: «إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، وَسَأَلْتُ اللهَ لِأُمَّتِي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِيَ اثْنَتَيْنِ وَرَدَّ وَاحِدَةً، سَأَلْتُ أَنْ لَا يُسَلَّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّ عَلَيَّ»
ترجمہ
…سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایسی نماز پڑھی جس میں طوالت اختیار کی، تو جب فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج آپ نے نماز میں بہت طوالت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے رغبت اور رہبت کی نماز پڑھی، اور میں نے اپنی امت کے لیے اللہ سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک روک لی، میں نے مانگا کہ ان پر کسی ایسے دشمن کو غالب نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی، اور میں نے مانگا کہ انہیں غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی، اور میں نے مانگا کہ ان کی آپس کی لڑائی نہ رکھے، تو اس نے یہ مجھے واپس کر دی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17443
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 148، حدیث 307