کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ - أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي، وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي - وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ -» فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكَهِ تَحْتَ شَفَتِهِ، فَقَالَ لِي: «لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمِلْنَا مَنْ أَرَادَهُ، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ -» فبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً وَقَالَ: «انْزِلْ» ، فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دَيْنَ السُّوءِ، فَقَالَ: «لَا أَجْلِسُ حَتَّى يَقْتُلَ، قَضَاءُ اللهِ وَرَسُولِهِ» - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَأَمَرَ بِهِ فَقَتِلَ
ترجمہ
…اور میرے ساتھ اشعریین میں سے دو آدمی تھے، ایک میری دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف، اور رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے، تو دونوں نے (کسی) عہدے کی درخواست کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! - یا: اے عبداللہ! -“ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، انہوں نے مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتائی، اور مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ عہدہ طلب کر رہے ہیں، (راوی کہتے ہیں) گویا میں اب بھی آپ ﷺ کی مسواک آپ کے ہونٹ کے نیچے دیکھ رہا ہوں، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”ہم اپنے کام پر اسے متعین نہیں کرتے جو خود اسے طلب کرے، لیکن تم جاؤ، اے ابوموسیٰ! - یا: اے عبداللہ بن قیس! -“ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا، پھر ان کے پیچھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، تو جب معاذ رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے ان کے لیے ایک تکیہ ڈالا اور کہا: ”بیٹھ جائیے“، تو دیکھا کہ ایک آدمی بندھا ہوا ہے، انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ یہودی تھا، پھر اسلام لایا، پھر اپنے (پرانے) برے دین کی طرف لوٹ گیا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، یہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے“ - تین بار فرمایا - چنانچہ اس کے متعلق حکم دیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ» ، فَجَاءَ مُعَاذٌ إِلَى أَبِي مُوسَى يَزُورُهُ، وَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا أَخِي أَبُعِثْنَا نُعَذِّبُ النَّاسَ أُمْ بُعِثْنَا نُعَلِّمُهُمْ وَنَأْمُرُهُمْ بِمَا يَنْفَعُهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ: أَسْلَمَ، ثُمَّ كَفَرَ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَحْرِقَهُ بِالنَّارِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ لَنَا عِنْدَهُ بَقِيَّةً، قَالَ مُعَاذٌ: وَاللهِ لَا أَبْرَحُ أَبَدًا، قَالَ: فَأُتِيَ بِحَطَبٍ فَأُلْهِبَتْ فِيهِ النَّارُ، وَطَرَحَهُ
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور دونوں کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن سکھائیں، (وہاں) معاذ رضی اللہ عنہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زیارت کے لیے آئے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک آدمی لوہے میں جکڑا ہوا ہے، انہوں نے کہا: میرے بھائی! کیا ہمیں لوگوں کو عذاب دینے کے لیے بھیجا گیا ہے یا انہیں سکھانے اور جو چیز ان کے لیے نفع بخش ہے اس کا حکم دینے کے لیے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ اسلام لایا، پھر کافر ہو گیا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک اسے آگ سے نہ جلا دوں، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے نزدیک اس کے بارے میں (توبہ کی) گنجائش ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہرگز نہیں ہٹوں گا، (راوی کہتے ہیں) چنانچہ لکڑیاں لائی گئیں اور اس میں آگ بھڑکائی گئی، اور اسے (اس میں) ڈال دیا گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَسْكَرِيُّ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ، فَأَتَاهُ مُعَاذٌ وَهُوَ عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: أَسْلَمَ، ثُمَّ تَهَوَّدَ، فَقَالَ: «لَا أَجْلِسُ حَتَّى تَقْتُلَهُ، قَضَاءُ اللهِ وَرَسُولِهِ»
كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مُعَاذٍ "
كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مُعَاذٍ "
ترجمہ
…خالد حذاء کے واسطے سے، ابوبردہ سے، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اسلام لایا، پھر یہودی ہو گیا، تو معاذ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے جبکہ وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: یہ کیا ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اسلام لایا، پھر یہودی ہو گیا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک تم اسے قتل نہ کر دو، یہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے۔“