المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن قيس أبو موسى الأشعري، عن معاذ بن جبل باب: سیدنا عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ» ، فَجَاءَ مُعَاذٌ إِلَى أَبِي مُوسَى يَزُورُهُ، وَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا أَخِي أَبُعِثْنَا نُعَذِّبُ النَّاسَ أُمْ بُعِثْنَا نُعَلِّمُهُمْ وَنَأْمُرُهُمْ بِمَا يَنْفَعُهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ: أَسْلَمَ، ثُمَّ كَفَرَ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَحْرِقَهُ بِالنَّارِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ لَنَا عِنْدَهُ بَقِيَّةً، قَالَ مُعَاذٌ: وَاللهِ لَا أَبْرَحُ أَبَدًا، قَالَ: فَأُتِيَ بِحَطَبٍ فَأُلْهِبَتْ فِيهِ النَّارُ، وَطَرَحَهُسیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور دونوں کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن سکھائیں، (وہاں) معاذ رضی اللہ عنہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زیارت کے لیے آئے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک آدمی لوہے میں جکڑا ہوا ہے، انہوں نے کہا: میرے بھائی! کیا ہمیں لوگوں کو عذاب دینے کے لیے بھیجا گیا ہے یا انہیں سکھانے اور جو چیز ان کے لیے نفع بخش ہے اس کا حکم دینے کے لیے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ اسلام لایا، پھر کافر ہو گیا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک اسے آگ سے نہ جلا دوں، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے نزدیک اس کے بارے میں (توبہ کی) گنجائش ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہرگز نہیں ہٹوں گا، (راوی کہتے ہیں) چنانچہ لکڑیاں لائی گئیں اور اس میں آگ بھڑکائی گئی، اور اسے (اس میں) ڈال دیا گیا۔