کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ، جن کی وفات نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہوئی، اور ان کا جنازہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَضَرَبَ بِجَنَاحَيْهِ فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهُ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي كُلِّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ: «يَا جِبْرِيلُ مَا بَلَّغَ هَذَا هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ مِنَ اللهِ؟» ، قَالَ: بِحُبِّهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهِبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى كُلِّ حَالٍ
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے اور عرض کیا: اے محمد! معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جبریل علیہ السلام نے اپنے دونوں پروں سے زمین پر مارا تو کوئی درخت اور کوئی ٹیلہ ایسا نہ رہا جو تعظیماً جھک نہ گیا ہو، اور ان کے لیے ان کا تخت اٹھایا گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے دیکھ لیا، تو آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جبکہ آپ ﷺ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”اے جبریل! اسے اللہ کے نزدیک یہ مقام کس چیز کی وجہ سے حاصل ہوا؟“ انہوں نے کہا: سورۃ ”قل ھو اللہ احد“ سے محبت اور اسے چلتے پھرتے، کھڑے، بیٹھے، ہر حال میں پڑھنے کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17089
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 428، حدیث 1040
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُعَلِّمُ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ غَازِيًا تَبُوكَ " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ لَكَ فِي جَنَازَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: بِيَدِهِ هَكَذَا، فَفَرَّجَ لَهُ عَنِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَعَ جِبْرِيلُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَصَلَّى عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «بِمَ بَلَغَ مُعَاوِيَةُ هَذَا؟» ، قَالَ: بِكَثْرَةِ قِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، كَانَ يَقْرَؤُهَا قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَاقِدًا وَمَاشِيًا، فَهَذَا بَلَغَ بِهِ مَا بَلَغَ
ترجمہ
نبی کریم ﷺ جب غزوۂ تبوک میں تھے تو جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے محمد! کیا آپ معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کے جنازے میں چلنا پسند کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جبریل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور پہاڑوں اور ٹیلوں کو ان کے لیے ہٹا دیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ چلتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ ﷺ کے ساتھ جبریل علیہ السلام تھے اور جبریل علیہ السلام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے، تو آپ ﷺ نے معاویہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”معاویہ کو یہ مقام کس چیز کی وجہ سے حاصل ہوا؟“ انہوں نے کہا: سورۃ ”قل ھو اللہ احد“ کی کثرت سے تلاوت کی وجہ سے، وہ اسے کھڑے، بیٹھے، لیٹے اور چلتے ہوئے پڑھا کرتے تھے، تو یہی وجہ ہے کہ انہیں یہ مقام حاصل ہوا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17090
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 429، حدیث 1041