حدیث نمبر: 17089
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَضَرَبَ بِجَنَاحَيْهِ فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهُ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي كُلِّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ: «يَا جِبْرِيلُ مَا بَلَّغَ هَذَا هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ مِنَ اللهِ؟» ، قَالَ: بِحُبِّهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهِبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى كُلِّ حَالٍ
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے اور عرض کیا: اے محمد! معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جبریل علیہ السلام نے اپنے دونوں پروں سے زمین پر مارا تو کوئی درخت اور کوئی ٹیلہ ایسا نہ رہا جو تعظیماً جھک نہ گیا ہو، اور ان کے لیے ان کا تخت اٹھایا گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے دیکھ لیا، تو آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جبکہ آپ ﷺ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”اے جبریل! اسے اللہ کے نزدیک یہ مقام کس چیز کی وجہ سے حاصل ہوا؟“ انہوں نے کہا: سورۃ ”قل ھو اللہ احد“ سے محبت اور اسے چلتے پھرتے، کھڑے، بیٹھے، ہر حال میں پڑھنے کی وجہ سے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17089
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 428، حدیث 1040