حدیث نمبر: 17090
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُعَلِّمُ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ غَازِيًا تَبُوكَ " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ لَكَ فِي جَنَازَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: بِيَدِهِ هَكَذَا، فَفَرَّجَ لَهُ عَنِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَعَ جِبْرِيلُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَصَلَّى عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «بِمَ بَلَغَ مُعَاوِيَةُ هَذَا؟» ، قَالَ: بِكَثْرَةِ قِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، كَانَ يَقْرَؤُهَا قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَاقِدًا وَمَاشِيًا، فَهَذَا بَلَغَ بِهِ مَا بَلَغَ
ترجمہ

نبی کریم ﷺ جب غزوۂ تبوک میں تھے تو جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے محمد! کیا آپ معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کے جنازے میں چلنا پسند کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جبریل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور پہاڑوں اور ٹیلوں کو ان کے لیے ہٹا دیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ چلتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ ﷺ کے ساتھ جبریل علیہ السلام تھے اور جبریل علیہ السلام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے، تو آپ ﷺ نے معاویہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”معاویہ کو یہ مقام کس چیز کی وجہ سے حاصل ہوا؟“ انہوں نے کہا: سورۃ ”قل ھو اللہ احد“ کی کثرت سے تلاوت کی وجہ سے، وہ اسے کھڑے، بیٹھے، لیٹے اور چلتے ہوئے پڑھا کرتے تھے، تو یہی وجہ ہے کہ انہیں یہ مقام حاصل ہوا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17090
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 429، حدیث 1041