کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو مدینہ میں رہائش رکھتے تھے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا اللَّيْلُ» ، قَالَ: فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَقُودَنَّ فِيهَا أَسَاوِدُ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» .
ترجمہ
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک اعرابی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اس نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسے فتنے واقع ہوں گے گویا وہ رات کی تاریکی ہوں۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان فتنوں میں کالے سانپوں جیسے فتنہ پرداز لوگ رہنمائی کریں گے، تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16491
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 197، حدیث 442
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16492
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 197، حدیث 443
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اعراب میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اعرابی نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر فتنے اس طرح واقع ہوں گے جیسے سائبان۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ان میں کالے سانپوں جیسے فتنہ پرداز لوگوں کی طرف لوٹو گے، تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16493
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 198، حدیث 444
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَعْرَابِ نَجْدٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» .
ترجمہ
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نجد کے اعراب میں سے ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اعرابی نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر فتنے اس طرح واقع ہوں گے جیسے سائبان۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ان میں کالے سانپوں جیسے فتنہ پرداز لوگوں کی طرف لوٹو گے، تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16494
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 198، حدیث 445
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي جَدِّي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى الْخَوْلَانِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا کرز رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16495
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 198، حدیث 446