حدیث نمبر: 16494
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَعْرَابِ نَجْدٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» .
ترجمہ

سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نجد کے اعراب میں سے ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اعرابی نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر فتنے اس طرح واقع ہوں گے جیسے سائبان۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ان میں کالے سانپوں جیسے فتنہ پرداز لوگوں کی طرف لوٹو گے، تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16494
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 198، حدیث 445