المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كرز بن علقمة الخزاعي " كان ينزل المدينة " باب: سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو مدینہ میں رہائش رکھتے تھے
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اعراب میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اعرابی نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر فتنے اس طرح واقع ہوں گے جیسے سائبان۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ان (فتنوں) میں کالے سانپوں کی طرح (ایک دوسرے پر) لپکنے والے بن جاؤ گے، تم میں سے بعض بعض کی گردنیں ماریں گے۔“