کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدالملک بن کعب بن عجرہ کی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى، " فَجَلَسَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْإِمَامُ، وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى انْصَرَفَ الْإِمَامُ، وَالنَّاسُ ذَاهِبوُنَ كَأَنَّهُمْ عُنُقٌ نَحْوَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى؟، فَقَالَ: «هَذِهِ بِدْعَةٌ وَتَرْكُ السُّنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالملک کہتے ہیں: میں عید کے دن سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلا، تو وہ امام کے آنے سے پہلے (عید گاہ میں) بیٹھ گئے اور امام کے واپس جانے تک نماز نہ پڑھی، جبکہ لوگ قطار در قطار مسجد کی طرف جا رہے تھے، تو میں نے کہا: کیا آپ دیکھ نہیں رہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ بدعت ہے اور سنت کو چھوڑنا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ كَعْبٍ إِحْدَى الْعِيدَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ ذَهَبَ أَكْثَرُهُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرَأَيْتُهُ يَعْمِدُ إِلَى الْبَيْتِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَةَ أَلَا تَعْمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي أَرَى النَّاسَ يَعْمِدُونَ إِلَيْهِ؟، فَقَالَ: «إِنَّ كَثِيرًا مِمَّا تَرَى جَفَاءٌ وَقِلَّةُ عِلْمٍ، إِنَّ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ سُبْحَةُ هَذَا الْيَوْمِ حَتَّى تَكُونَ الصَّلَاةُ تَدْعُوكَ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالملک کہتے ہیں: میں دو عیدوں میں سے ایک عید میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، جب لوگ (عید کی نماز سے) واپس ہوئے تو ان میں سے اکثر مسجد کی طرف چلے گئے، اور میں نے دیکھا کہ وہ (میرے والد) گھر کا رخ کر رہے ہیں، تو میں نے عرض کیا: ابا جان! کیا آپ مسجد کی طرف نہیں جائیں گے، میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ اسی طرف جا رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جو تم دیکھ رہے ہو اس میں سے بہت کچھ سختی اور کم علمی کا نتیجہ ہے، یہ (عید کی) دو رکعتیں ہی آج کے دن کی نفل عبادت ہیں، یہاں تک کہ (اگلی) نماز تمہیں بلائے۔“