❮
❯
حدیث نمبر: 16377
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى " فَجَلَسَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْإِمَامُ، وَلَمْ يَأْتِ حَتَّى إِذَا انْصَرَفَ الْإِمَامُ انْصَرَفُوا ذَاهِبِينَ نَحْوَ الْمَسْجِدِ كَأَنَّهُمْ عُنُقٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى النَّاسَ؟، فَقَالَ: «هَذِهِ بِدْعَةٌ وَتَرْكُ السُّنَّةِ»
ترجمہ

سعد بن اسحاق کے چچا (سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے) کہتے ہیں: میں عید کے دن اپنے والد کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلا، اور وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، تو وہ امام کے آنے سے پہلے بیٹھ گئے، اور جب تک امام واپس نہ ہوا (کچھ اور) نہ کیا، پھر جب لوگ واپس ہوئے تو قطار در قطار مسجد کی طرف جانے لگے، تو میں نے ان سے عرض کیا: کیا آپ لوگوں کو نہیں دیکھتے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ بدعت ہے اور سنت کو چھوڑنا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16377
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 149، حدیث 327