حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الدَّارِعُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَّامٍ الْعَطَّارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهَا فَأَمِسُّوهُمَا طَبْخًا»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ان دونوں درختوں (لہسن اور پیاز) میں سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے، اور اگر تمہیں انہیں کھانا ہی ہو تو انہیں پکا کر (ان کی بو ختم کر کے) کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ جَلَسَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَهُ ابْنٌ صَغِيرٌ يَأْتِيَهِ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ يَقْعُدُ بَيْنَ يَدَيْهِ، إِلَى أَنْ هَلَكَ الصَّبِيُّ فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ يَذْكُرُ اللهَ وَيَحْزَنُ عَلَيْهِ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا لِي لَا أَرَى فُلَانًا؟» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ بُنَيُّهُ الَّذِي رَأَيْتَ هَلَكَ فَمَنَعَهُ ذَلِكَ مِنْ حُضُورِ الْحَلْقَةِ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ، فَعَزَّاهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا فُلَانُ أَيُّهُمَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيْكَ: أَنْ تَتَمَتَّعَ بِهِ عُمُرَكَ أَوْ لَا تَأْتِي غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ يَفْتَحُ لَكَ "، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُهَا لِي أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ: «فَذَلِكَ لَكَ» ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاكَ، هَذَا لِفُلَانٍ خَاصَّةً أَوْ لِمَنْ هَلَكَ لَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَرَطٌ كَانَ ذَلِكَ لَهُ؟، قَالَ: «بَلْ كُلُّ مَنْ هَلَكَ لَهُ فَرَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ»
ترجمہ
...یہاں تک کہ وہ بچہ فوت ہو گیا، تو وہ شخص غم کی وجہ سے ذکرِ الٰہی کی مجلس میں حاضر ہونے سے رک گیا اور اس پر غمگین رہنے لگا، تو نبی کریم ﷺ نے اسے نہ پا کر فرمایا: ”مجھے فلاں کیوں نظر نہیں آتا؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا وہ بیٹا جسے آپ نے دیکھا تھا، فوت ہو گیا ہے، اسی وجہ سے وہ مجلس میں حاضر نہیں ہو رہا۔ تو نبی کریم ﷺ اس سے ملے اور اس کے بارے میں پوچھا، تو انہیں بتایا گیا کہ وہ فوت ہو چکا ہے، تو آپ ﷺ نے اسے تعزیت پیش کی، پھر فرمایا: ”اے فلاں! تمہیں ان دونوں میں سے کون سی بات زیادہ پسند ہے: یہ کہ تم اپنی باقی زندگی میں اس سے لطف اندوز ہوتے، یا یہ کہ کل تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ وہ تم سے پہلے وہاں پہنچا ہوا ملے اور تمہارے لیے دروازہ کھولے؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! بلکہ یہ کہ وہ جنت کے دروازوں پر مجھ سے پہلے پہنچے اور میرے لیے انہیں کھولے، یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ تمہارے لیے ہے۔“ تو انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کیا یہ صرف فلاں کے لیے خاص ہے یا جس بھی مسلمان کا کوئی بچہ آگے جنت میں پہنچا ہوا فوت ہو جائے اس کے لیے بھی یہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہر اس مسلمان کے لیے یہی ہے جس کا کوئی بچہ آگے پہنچا ہوا فوت ہوا ہو۔“