المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شبيب بن محمد بن واسع، عن معاوية بن قرة باب: شبیب بن محمد بن واسع کی معاویہ بن قرہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَجَعْفَرُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمَ، ثنا الْأَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قُرَّةَ، قَالَ: ذَهَبْتُ لِأُسْلِمَ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُدْخِلَ مَعِيَ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً فِي الْإِسْلَامِ، فَأَتَيْتُ الْمَاءَ حَيْثُ مُجَمِّعِ النَّاسِ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي الْقَرْيَةِ الَّذِي يَرْعَى أَغْنَامَهُمْ، فَقَالَ: لَا أَرْعَى لَكُمْ أَغْنَامَكُمْ، قَالُوا: لِمَ؟، قَالَ: يَجِيءُ الذِّئْبُ كُلَّ لَيْلَةٍ فَيَأْخُذُ الشَّاةَ، وَصَنَمُنَا هَذَا قَائِمٌ، لَا يَضُرُّ وَلَا يَنْفَعُ، وَلَا يُغَيِّرُ، وَلَا يُنْكِرُ، فَرَجَعُوا، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُسْلِمُوا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا جَاءَ الرَّاعِي يَشْتَدُّ، وَهُوَ يَقُولُ: جَاءَ الْبُشْرَى، جَاءَ الْبُشْرَى، جَاءَ الذِّئْبُ فَهُوَ بَيْنَ يَدَيِ الصَّنَمِ مَقْمُوطًا، فَذَهَبْتُ مَعَهُمْ، فَقَبَّلُوهُ وَسَجَدُوا لَهُ، وَقَالُوا: هَكَذَا فَاصْنَعْ. فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: «عَبَثَ بِهِمُ الشَّيْطَانُ»سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو میں اسلام لانے کے لیے چلا، اور میں نے چاہا کہ اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو بھی اسلام میں داخل کروں، چنانچہ میں اس پانی (کے گھاٹ) پر آیا جہاں لوگ جمع ہوتے تھے، تو وہاں بستی کا وہ چرواہا تھا جو ان کی بکریاں چراتا تھا، اس نے کہا: میں تمہاری بکریاں نہیں چراؤں گا۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: ہر رات بھیڑیا آتا ہے اور بکری اٹھا لے جاتا ہے، اور ہمارا یہ بت کھڑا ہے، نہ نقصان دیتا ہے نہ نفع، نہ (کچھ) بدلتا ہے نہ (کسی بات پر) انکار کرتا ہے۔ تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور مجھے امید تھی کہ وہ اسلام لے آئیں گے۔ جب صبح ہوئی تو چرواہا دوڑتا ہوا آیا اور کہہ رہا تھا: خوشخبری آ گئی، خوشخبری آ گئی! بھیڑیا آیا اور وہ بت کے سامنے بندھا پڑا ہے۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا، تو انہوں نے اسے بوسہ دیا اور اسے سجدہ کیا، اور کہا: (اے بت!) اسی طرح کیا کر۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو یہ واقعہ سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے ساتھ شیطان نے کھیل کھیلا ہے۔“