کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ایاس بن معاویہ بن قرہ کی اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدَسِيُّ، ثنا فُدَيْكُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا خَلِيفَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ رَافِعًا صَوْتَهُ، أَعْطَاهُ اللهُ مِنَ الْأَجْرِ بِعَدَدِ كُلِّ قَطْرَةٍ فِي الْبَحْرِ عَشَرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشَرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَ لَهُ عَشَرَ دَرَجَاتٍ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ بِالْفَرَسِ الْمُسْرِعِ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سمندر کے کنارے سورج غروب ہوتے وقت بلند آواز سے ایک تکبیر کہے، اللہ تعالیٰ اسے سمندر کے ہر قطرے کے برابر دس نیکیاں عطا فرمائے گا، اس سے دس گناہ مٹا دے گا، اور اسے دس درجے بلند کر دے گا، جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان تیز رفتار گھوڑے کے ساتھ سو سال کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيُّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بِشْرٍ التِّرْمِذِيُّ، وَكَانَ إِمَامَنَا بِعَسْقَلَانَ مَاتَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قُرَّةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ»
ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ عِيُّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ، وَالْعَمَلَ مِنَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِيِ الْآخِرَةِ وَيُنْقِصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يُنْقِصْنَ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ الشُّحَّ، وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا وَيُنْقِصْنَ مِنَ الْآخِرَةِ، وَلَمَا يُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا»
ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ عِيُّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ، وَالْعَمَلَ مِنَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِيِ الْآخِرَةِ وَيُنْقِصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يُنْقِصْنَ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ الشُّحَّ، وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا وَيُنْقِصْنَ مِنَ الْآخِرَةِ، وَلَمَا يُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ کے سامنے حیا کا ذکر ہوا، تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا حیا دین میں سے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ وہ سارا دین ہے۔“
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک حیا، پاکدامنی، اور کم گوئی - جو زبان کی کمی ہے، دل کی کمی نہیں - اور عمل، یہ سب ایمان میں سے ہیں، اور یہ آخرت میں بڑھاتی اور دنیا میں کم کرتی ہیں، اور آخرت میں جو یہ بڑھاتی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا میں کم کرتی ہیں۔ اور بخیلی اور بدزبانی نفاق میں سے ہیں، یہ دنیا میں بڑھاتی اور آخرت میں کم کرتی ہیں، اور آخرت میں جو یہ کم کرتی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا میں بڑھاتی ہیں۔“
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک حیا، پاکدامنی، اور کم گوئی - جو زبان کی کمی ہے، دل کی کمی نہیں - اور عمل، یہ سب ایمان میں سے ہیں، اور یہ آخرت میں بڑھاتی اور دنیا میں کم کرتی ہیں، اور آخرت میں جو یہ بڑھاتی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا میں کم کرتی ہیں۔ اور بخیلی اور بدزبانی نفاق میں سے ہیں، یہ دنیا میں بڑھاتی اور آخرت میں کم کرتی ہیں، اور آخرت میں جو یہ کم کرتی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا میں بڑھاتی ہیں۔“