حدیث نمبر: 16113
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيُّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بِشْرٍ التِّرْمِذِيُّ، وَكَانَ إِمَامَنَا بِعَسْقَلَانَ مَاتَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قُرَّةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ»
ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ عِيُّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ، وَالْعَمَلَ مِنَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِيِ الْآخِرَةِ وَيُنْقِصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يُنْقِصْنَ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ الشُّحَّ، وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا وَيُنْقِصْنَ مِنَ الْآخِرَةِ، وَلَمَا يُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ

سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ کے سامنے حیا کا ذکر ہوا، تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا حیا دین میں سے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ وہ سارا دین ہے۔“
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک حیا، پاکدامنی، اور کم گوئی - جو زبان کی کمی ہے، دل کی کمی نہیں - اور عمل، یہ سب ایمان میں سے ہیں، اور یہ آخرت میں بڑھاتی اور دنیا میں کم کرتی ہیں، اور آخرت میں جو یہ بڑھاتی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا میں کم کرتی ہیں۔ اور بخیلی اور بدزبانی نفاق میں سے ہیں، یہ دنیا میں بڑھاتی اور آخرت میں کم کرتی ہیں، اور آخرت میں جو یہ کم کرتی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا میں بڑھاتی ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16113
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 29، حدیث 63