حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَامُ الْبِيضِ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایامِ بیض کا روزہ رکھنا اور ان کا افطار کرنا زمانہ بھر کے روزے کی مانند ہے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبُّهُ؟» ، قَالَ: أَحَبَّكَ اللهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَتُوُفِّيَ ابْنُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَ ابْنُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ لَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا جَاءَ حَتَّى يَفْتَحَهُ لَكَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لَنَا كُلُّنَا؟، قَالَ: «لَا بَلْ لَكُمْ كُلُّكُمْ» ، «وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے ایک بیٹے کو ساتھ لے کر آیا جایا کرتا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اسے پیار کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ آپ سے اتنی محبت کرے جتنی میں اس سے کرتا ہوں۔ پھر اس کا بیٹا فوت ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ گے وہ تمہارا بیٹا وہاں پہلے سے موجود ہو کر تمہارے لیے کھول دے گا؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ اس کے لیے خاص ہے یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم سب کے لیے ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ عمرو بن مرزوق کی روایت کے ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ عمرو بن مرزوق کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَزَالُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»
ترجمہ
معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا، انہیں چھوڑنے والوں کی مخالفت ان کا کچھ نہیں بگاڑے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اہلِ شام بگڑ جائیں تو تم میں کوئی بھلائی نہیں رہے گی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے استغفار فرمایا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَلَبَ وَصَرَّ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ دودھ دوہ چکے تھے اور اسے (تھیلی میں) باندھ چکے تھے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ الدَّلَّالُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى شَجَرَةٍ يَجْنِي لَهُمْ مِنْهَا، فَهَبَّتِ الرِّيحُ فَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهِ، فَضَحِكُوا مِنْ رِقَّةِ سَاقَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک درخت پر چڑھے ہوئے تھے، وہ ان کے لیے اس سے پھل توڑ رہے تھے، تو ہوا چلی اور ان کی دونوں پنڈلیاں کھل گئیں، تو لوگ ان کی پنڈلیوں کے پتلے پن پر ہنسنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ دونوں پنڈلیاں قیامت کے دن میزان میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔“
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا أَبُو سُفْيَانٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کو دیگر عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی ثرید کو باقی کھانوں پر۔“