حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " عَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِنَا، وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ "
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک عرصہ گزارا، اور ہمارے پاس کھانے کو سوائے دو سیاہ چیزوں - کھجور اور پانی - کے کچھ نہ تھا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «يَا بُنَيَّ» إِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ تَرْجُو خَيْرَهُ، فَعَجَّلَتْ بِكَ حَاجَةٌ، فَقُلْتَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّكَ شَرِيكُهُمْ فِيمَا يُصِيبُونَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ "
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے میرے بیٹے! جب تم کسی ایسی مجلس میں ہو جس کی بھلائی کی تمہیں امید ہو، پھر کوئی ضرورت تمہیں وہاں سے جلدی اٹھنے پر مجبور کر دے، تو تم (جاتے ہوئے) السلام علیکم کہہ دو، کیونکہ اس طرح تم اس مجلس میں جو کچھ اجر انہیں ملے گا اس میں شریک ہو جاؤ گے۔