حدیث نمبر: 16104
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبُّهُ؟» ، قَالَ: أَحَبَّكَ اللهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَتُوُفِّيَ ابْنُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَ ابْنُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ لَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا جَاءَ حَتَّى يَفْتَحَهُ لَكَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لَنَا كُلُّنَا؟، قَالَ: «لَا بَلْ لَكُمْ كُلُّكُمْ» ، «وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ»
ترجمہ

سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے ایک بیٹے کو ساتھ لے کر آیا جایا کرتا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اسے پیار کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ آپ سے اتنی محبت کرے جتنی میں اس سے کرتا ہوں۔ پھر اس کا بیٹا فوت ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ گے وہ تمہارا بیٹا وہاں پہلے سے موجود ہو کر تمہارے لیے کھول دے گا؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ اس کے لیے خاص ہے یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم سب کے لیے ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ عمرو بن مرزوق کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16104
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 26، حدیث 54