کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عباس عبدالرحمن ہاشمی کی سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ عِمْرَانَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَى أَبُو حُصَيْنِ بْنِ عُبَيْدٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا يُقْرِي الضَّيْفَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ هُوَ أَبُوكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ أَبِي وَأَبَاكَ، فَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ» . فَمَا لَبِثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا عِشْرِينَ لَيْلَةً حَتَّى مَاتَ
ترجمہ
… ابوحصین بن عبید نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو مہمان کی مہمان نوازی کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، اور فلاں فلاں کام کرتا ہے - وہ آپ کے والد ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم بتاؤ میرے والد اور تمہارے والد کے بارے میں، وہ دونوں آگ میں ہیں۔“ اس کے بعد وہ صرف بیس راتیں ہی زندہ رہا یہاں تک کہ فوت ہو گیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، إِنَّ أَبَاهُ حَصِينًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا كَانَ يُقْرِي الضَّيْفَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، مَاتَ قَبْلَكَ، وَهُوَ أَبُوكَ فَقَالَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ وَأَنْتَ فِي النَّارِ» . قَالَ: فَمَاتَ حُصَيْنٌ مُشْرِكًا
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد حصین نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو مہمان نوازی کرتا تھا اور صلہ رحمی کرتا تھا، وہ آپ سے پہلے فوت ہو گیا اور وہ آپ کے والد تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے والد، تمہارے والد، اور تم - سب آگ میں ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: حصین مشرک ہی حالت میں فوت ہوئے۔