المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حبيب بن أبي فضالة، عن عمران بن حصين باب: حبیب بن ابی فضالہ کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا صُرَدُ بْنُ أَبِي الْمُنَازِلِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي فَضَالَةَ الْمَكِّيَّ، قَالَ: لَمَّا بُنِيَ هَذَا الْمَسْجِدُ مَسْجِدُ الْجَامِعِ، قَالَ وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ جَالِسٌ فَذَكَرُوا عِنْدَهُ الشَّفَاعَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ لَتُحَدِّثُونَا بِأَحَادِيثَ مَا نَجِدُ لَهَا أَصْلًا فِي الْقُرْآنِ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَقَالَ لِرَجُلٍ: قَرَأْتَ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَجَدْتَ فِيهِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا، وَصَلَاةَ الْعِشَاءِ أَرْبَعًا، وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ رَكْعَتَيْنِ، وَالْأُولَى أَرْبَعًا، وَالْعَصْرُ أَرْبَعًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَعَمَّنْ أَخَذْتُمْ هَذَا الشَّأْنَ؟ أَلَسْتُمْ أَخَذْتُمُوهُ عَنَّا، وَأَخَذْنَاهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوَجَدْتُمْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَفِي كُلِّ كَذَا وَكَذَا شَاةً، وَفِي كُلِّ كَذَا وَكَذَا بَعِيرًا كَذَا، أَوَجَدْتُمْ فِي الْقُرْآنِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَعَمَّنٍ أَخَذْتُمْ هَذَا؟ أَخَذْنَاهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذْتُمُوهُ عَنَّا، قَالَ: فَهَلْ وَجَدْتُمْ فِي الْقُرْآنِ {وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٢٩] وَجَدْتُمْ هَذَا طُوفُوا سَبْعًا، وَارْكَعُوا رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، أَوَجَدْتُمْ هَذَا فِي الْقُرْآنِ؟ عَمَّنْ أَخَذْتُمُوهُ؟ أَلَسْتُمْ أَخَذْتُمُوهُ عَنَّا، وَأَخَذْنَاهُ عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَوَجَدْتُمْ فِي الْقُرْآنِ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ» أَسَمِعْتُمُ اللهَ يَقُولُ لِأَقْوَامٍ فِي كِتَابِهِ: {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرٍ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ} [المدثر: ٤٣] حَتَّى بَلَغَ {فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ} [المدثر: ٤٨] قَالَ حَبِيبٌ: «أَنَا سَمِعْتُ يَقُولُ الشَّفَاعَةَ»حبیب بن ابی فضالہ مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب یہ مسجد، یعنی جامع مسجد، تعمیر کی گئی تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ (وہاں) بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے ان کے پاس شفاعت کا ذکر کیا، تو ایک آدمی نے کہا: اے ابونجید! تم ہمیں ایسی حدیثیں سناتے ہو جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی۔ اس پر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور اس آدمی سے کہا: کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: کیا تم نے اس میں پایا کہ مغرب کی نماز تین رکعت ہے، عشاء کی چار رکعت، فجر کی دو رکعت، ظہر کی چار رکعت، اور عصر کی چار رکعت؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تو تم نے یہ معاملہ کس سے لیا؟ کیا تم نے یہ ہم سے نہیں لیا، اور ہم نے رسول اللہ ﷺ سے لیا؟ کیا تم نے پایا کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم، اور اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری، اور اتنے اتنے اونٹوں میں اتنا اونٹ؟ کیا یہ تم نے قرآن میں پایا؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تو تم نے یہ کس سے لیا؟ ہم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے لیا، اور تم نے ہم سے لیا۔ فرمایا: کیا تم نے قرآن میں پایا: ”اور وہ قدیم گھر کا طواف کریں“ [الحج: 29]؟ کیا تم نے اس میں پایا کہ سات چکر لگاؤ، اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھو؟ کیا یہ تم نے قرآن میں پایا؟ تم نے یہ کس سے لیا؟ کیا تم نے یہ ہم سے نہیں لیا، اور ہم نے اللہ کے نبی ﷺ سے لیا؟ کیا تم نے قرآن میں پایا ہے کہ اسلام میں نہ جلب ہے، نہ جنب، اور نہ شغار؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اسلام میں نہ جلب ہے، نہ جنب، اور نہ شغار۔“ کیا تم نے اللہ کو اپنی کتاب میں کچھ لوگوں کے بارے میں یہ فرماتے سنا ہے: ”تمہیں کس چیز نے دوزخ میں ڈالا؟ وہ کہیں گے: ہم نمازی نہ تھے، اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے“ [المدثر: 43] یہاں تک کہ ”پس اب انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی“ [المدثر: 48] تک؟ حبیب کہتے ہیں: ”میں نے انہیں 'الشفاعہ' کہتے سنا۔“