کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: منصور بن زاذان کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیا ایمان میں سے ہے، اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے، اور بدکلامی سختی میں سے ہے، اور سختی جہنم میں لے جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15500
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 178، حدیث 409
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15501
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 178، حدیث 410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ الْمَيِّتَ بِنِيَاحِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» فَقَالَ: رَجُلٌ يَمُوتُ بِخُرَاسَانَ وَيُصَاحُ عَلَيْهِ هَهُنَا يُعَذَّبُ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبْتَ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل میت کو اس کے گھر والوں کے نوحے کے سبب عذاب دیتا ہے۔“ تو ایک آدمی نے کہا: ایک آدمی خراسان میں مرتا ہے اور یہاں اس پر واویلا کیا جاتا ہے، کیا اسے عذاب ہوگا؟ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا اور تم نے جھوٹ کہا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15502
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 178، حدیث 411
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَوْفٍ الْوَاسِطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ قَالُوا: ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةً مِنَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» ، ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً
ترجمہ
… ایک انصاری آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے جن کے سوا اس کے پاس کوئی مال نہ تھا، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا: ”میں نے تو ارادہ کر لیا تھا کہ اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھوں۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے غلاموں کو بلایا، انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلامی میں رہنے دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15503
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 178، حدیث 412
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَسَرَهَا الْعَدُوُّ، وَقَدْ كَانُوا أَصَابُوا قَبْلَ ذَلِكَ نَاقَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَتْ مِنَ الْقَوْمِ غَفْلَةً، فَرَكِبَتْ نَاقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَنْحَرَ نَاقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا، لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللهِ»
ترجمہ
… اس نے دیکھا کہ لوگ غافل ہیں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی پر سوار ہو گئی، اور نذر مانی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کو ذبح کرے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیا برا بدلہ دیا، ابنِ آدم کی نذر اس چیز میں نہیں ہوتی جس کا وہ مالک نہیں، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15504
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 179، حدیث 413
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ حَلْقَةً مِنْ صُفَرٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قَالَ: «مِنَ الْوَاهِنَةِ» قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا، وَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَأَنْتَ تَرَى أَنَّهَا تَنْفَعُكَ لَمِتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا چھلا دیکھا، تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: واہنہ کے لیے ہے۔ فرمایا: ”خبردار! یہ تمہیں کمزوری کے سوا کچھ نہیں بڑھائے گی، اور اگر تم اسی حال میں مر گئے کہ تمہارا خیال ہے کہ یہ تمہیں نفع دیتی ہے، تو تم فطرت کے خلاف حالت میں مرو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15505
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 179، حدیث 414
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو نماز بھول جائے وہ اسے یاد آتے ہی پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15506
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 179، حدیث 415