کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: معدی کرب بن عبد کلال کی سیدنا عوف رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا جَابِرُ بْنُ غَانِمٍ، عَنْ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ رَبِّي تَعَالَى خَيَّرَنِي خَصْلَتَيْنِ: أَنْ يَرْتَحِلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ "
ترجمہ
سیدنا عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب تعالیٰ نے مجھے دو باتوں میں اختیار دیا: یہ کہ میری آدھی امت جنت میں جائے، یا شفاعت مل جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15197
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 57، حدیث 106
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلَ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَنَزَلْنَا حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرِقَتْ عَيْنَاي، فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ، فَقُمْتُ فَإِذَا لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ دَابَّةٌ إِلَّا وَاضِعٌ خَدِّهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَإِنَّ أَرْفَعَ شَيْءٍ فِي نَفْسِي لِمَوْضِعُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ فَقُلْتُ: لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا كَلَّ مَا اللَّيْلَةُ حَتَّى يُصْبِحَ فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى رَحَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي رَحْلِهِ، فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ مِنَ الْعَسْكَرِ، فَإِذَا أَنَا بِسَوَادٍ فَتَيَمَّمْتُ ذَلِكَ السَّوَادَ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَقَالَا لِي: مَا الَّذِي أَخْرَجَكَ؟ قُلْتُ: الَّذِي أَخْرَجَكُمَا فَإِذَا نَحْنُ بِغَيْطَةٍ مِنَّا غَيْرَ بَعِيدٍ فَمَشَيْنَا إِلَى الْغَيْطَةِ، فَإِذَا نَحْنُ نَسْمَعُ فِيهَا كَدَوِيِّ النَّحْلِ، أَوْ كَحَفِيفِ الرِّيَاحِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهَهُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ؟» قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: «وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْنَا لَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، وَلَا يَسْأَلُنَا عَنْ شَيْءٍ، فَرَجَعَ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا خَيَّرَنِي رَبِّي آنِفًا؟» قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ ثُلُثُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الَّذِي اخْتَرْتَ؟ قَالَ: «اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» قُلْنَا جَمِيعًا: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَقَالَ لَنَا: «إِنَّ شَفَاعَتِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ»
ترجمہ
سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … میں نے کہا: وہی چیز جس نے تم دونوں کو نکالا۔ تو ہمارے قریب ہی ایک جھاڑی تھی، ہم اس جھاڑی کی طرف چلے تو ہم نے اس میں سے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ یا ہوا کی سرسراہٹ جیسی آواز سنی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہاں ابوعبیدہ بن جراح ہیں؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”اور معاذ بن جبل؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”اور عوف بن مالک؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم کھڑے ہو گئے، نہ ہم نے آپ ﷺ سے کچھ پوچھا نہ آپ ﷺ نے ہم سے کچھ پوچھا، پھر آپ ﷺ اپنی سواری کی طرف واپس گئے، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ ابھی میرے رب نے مجھے کس بات کا اختیار دیا؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اختیار دیا گیا کہ میری ایک تہائی امت بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہو، یا شفاعت مل جائے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے کیا چنا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے شفاعت کو چنا۔“ ہم سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہمیں اپنی شفاعت والوں میں سے بنا دیجیے۔ آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”میری شفاعت ہر مسلمان کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15198
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 58، حدیث 107