کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ، جو سیدنا رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں؛ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے احوال
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، " وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَقَالَ: نُفِسَتِ امْرَأَتُهُ، فَرَأَتِ الطُّهْرَ بَعْدَ عِشْرِينَ يَوْمًا، فَاغْتَسَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ لَتَدْخُلَ مَعَهُ فِي كَافِهِ، فَوَجَدَ مَسَّهَا فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» قَالَتْ: فُلَانَةُ قَالَ: «مَا بَالُكِ؟» قَالَتْ: إِنِّي رَأَيْتُ الطُّهْرَ فَاغْتَسَلْتُ، فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ فَأَقَامَهَا عَنْ فِرَاشِهِ، وَقَالَ: «لَا تُغْوِينِي عَنْ دِينِي حَتَّى يَمْضِيَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا»
ترجمہ
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ان کی بیوی نفاس میں تھیں، بیس دن بعد انہیں طہر نظر آیا تو انہوں نے غسل کر لیا، پھر وہ ان کے ساتھ لحاف میں آنے لگیں تو انہیں ان کا مس محسوس ہوا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: فلانہ (میں ہوں)۔ انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: مجھے طہر نظر آیا تو میں نے غسل کر لیا۔ تو انہوں نے اپنے پاؤں سے اسے ہٹا کر بستر سے الگ کر دیا اور فرمایا: مجھے میرے دین سے بہکانے کی کوشش نہ کرو جب تک چالیس دن نہ گزر جائیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15115
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 16، حدیث 23
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَشْرَجٍ الْمُرِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّهُ «كَانَ يَرْكَبُ السُّرُوجَ الْمُنَمَّرَةَ وَيَلْبَسُ الْخَزَّ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا»
ترجمہ
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ چیتے کی کھال جیسی زین والی کاٹھیوں پر سوار ہوتے اور ریشم ملا کپڑا پہنتے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15116
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 16، حدیث 24
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ، " أَنَّ عَائِدُ بْنُ عَمْرٍو أَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ فَرَكِبَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا بَلَغَ قَصْرَ هِشَامٍ قِيلَ لَهُ: أَنَّهُ قَدْ أَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَبُو بَرْزَةَ، فَرَكِبَ دَابَّتَهُ رَاجِعًا "
ترجمہ
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ ان کی نماز جنازہ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔ عبیداللہ بن زیاد ان کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے سوار ہو کر نکلا، جب وہ قصر ہشام پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ انہوں نے وصیت کی ہے کہ ابوبرزہ ہی نماز جنازہ پڑھائیں، تو وہ اپنی سواری پر واپس لوٹ گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15117
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 17، حدیث 25