کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا عیاض بن مرثد عامری رضی اللہ عنہ، جن کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ الْعَامِرِيَّ يُحَدِّثُ رَجُلًا أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: «هَلْ مِنُ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟» قَالَ: لَا، سَأَلَهُ ثَلَاثًا قَالَ: «اسْقِ الْمَاءَ، احْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا، وَاكْفِهِمْ إِيَّاهُ إِذَا حَضَرُوا»
ترجمہ
عاصم بن کلیب کہتے ہیں کہ میں نے عیاض بن مرثد — یا مرثد بن عیاض — عامری کو ایک آدمی سے یہ بیان کرتے سنا کہ اس نے نبی کریم ﷺ سے ایسا عمل پوچھا جو اسے جنت میں داخل کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے تین بار پوچھا، پھر فرمایا: ”پانی پلاؤ، جب وہ غائب ہوں تو ان کے لیے پانی لے جاؤ، اور جب وہ حاضر ہوں تو انہیں اس کی زحمت سے بچاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15084
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 370، حدیث 1014
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ، أَو مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
عاصم بن کلیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عیاض بن مرثد — یا مرثد بن عیاض — کو ان کی قوم کے ایک آدمی سے یہ بیان کرتے سنا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا عمل پوچھا جو اسے جنت میں داخل کر دے۔ پھر راوی نے اسی جیسی حدیث بیان کی جو اس سے پہلے مذکور ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15085
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 370، حدیث 1015