حدیث نمبر: 14811
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ قَالَا: ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ العَلَّافُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَبَدَرْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَو بَدَرَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: " يَا عُقْبَةُ، ألَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ أَخْلَاقِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَأَهْلِ الْآخِرَةِ: تَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ، وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، الَّذِي أَرَادَ أنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُمَدَّ لَهُ فِي عُمُرِهِ فَلْيَتَّقِ اللهَ وَلْيَصِلْ ذَا رَحِمِهِ " وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ
ترجمہ

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ سے ملا تو میں نے پہل کر کے آپ کا ہاتھ تھام لیا، یا آپ ﷺ نے پہل کر کے میرا ہاتھ تھام لیا، پھر فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دنیا اور آخرت والوں کے سب سے بہتر اخلاق نہ بتاؤں: جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے جوڑو، جو تمہیں محروم رکھے اسے دو، اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو۔ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت دی جائے تو اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابن ابی مریم کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14811
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 269، حدیث 739