حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «عَاصِمُ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْجَدِّ بْنِ الْعَجْلَانِ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ»
ترجمہ
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عاصم بن عدی بن جد بن عجلان رضی اللہ عنہ بدر کی طرف نکلے تھے، مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں واپس بھیج دیا اور ان کے لیے (غنیمت میں سے) حصہ مقرر فرما دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِكَالِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: " عَاصِمُ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْجَدِّ بْنِ عَجْلَانَ بْنِ ضُبَيْعَةَ وَهُوَ مِنْ بَلِيٍّ حَلِيفٌ لِبَنِي عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ، خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، فَرَدَّهُ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَيُقَالُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَهُ عَلَى الْعَالِيَةِ وَيُقَالُ: عَاشَ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمِائَةً "
ترجمہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: عاصم بن عدی بن جد بن عجلان بن ضبیعہ رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ بلی سے تھا اور وہ بنو عبید بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کے حلیف تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف نکلے، آپ ﷺ نے انہیں واپس بھیج دیا اور اصحابِ بدر کے ساتھ ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں (مدینہ کے بالائی علاقے) عالیہ پر اپنا نائب مقرر کیا تھا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سو پندرہ سال جیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمّ يَرْمُونَ الْغَدَ، وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ»
ترجمہ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ چرانے والوں کو رات وہاں (منیٰ سے باہر) گزارنے کی اجازت دی، (اس شرط پر کہ) وہ قربانی کے دن کی رمی کریں، پھر اگلے دن کی، پھر اس کے بعد والے دن کی دو دنوں کی رمی اکٹھی کریں، پھر کوچ کے دن کی رمی کریں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ الزُّهْرِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمّ يَدَعُوا يَوْمًا وَلَيْلَةً، ثُمَّ يَرْمُوا مِنْ بَعْدُ»
ترجمہ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ چرانے والوں کو اجازت دی کہ وہ قربانی کے دن رمی کریں، پھر ایک دن رات چھوڑ دیں، پھر اس کے بعد رمی کر لیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدُ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ يَتَعَاقَبُونَ وَيَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمّ يَدَعُونَ»
ترجمہ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ چرانے والوں کو اجازت دی کہ وہ باری باری آئیں اور قربانی کے دن رمی کر لیں، پھر (بقیہ ایام کی رمی) چھوڑ دیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرْشِدٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ لِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، فَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ»
ترجمہ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ پیر کے دن، ربیع الاول کی بارہ راتیں گزرنے پر مدینہ تشریف لائے، اور مدینہ میں دس سال قیام فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَمِّعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْبَدَّاحِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِدْثَانَ مَا قَدِمَ، فَقَالَ: أَيْنْ حَبِيسُ سَيْلٍ؟ قُلْنَا: لَا نَدْرِي، فَمَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: مِنْ حَبِيسِ سَيْلٍ، فَدَعَوْتُ نَعْلِي فَانْحَدَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ سَأَلْتَنَا عَنْ حَبِيسِ سَيْلٍ فَقُلْنَا: لَا عَلِمَ لَنَا بِهِ، وَإِنَّهُ مَرَّ بِي هَذَا الرَّجُلُ فَسَأَلْتُهُ فَزَعَمَ أَنَّ بِهِ أَهْلَهُ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ: «أَيْنَ أَهْلُكَ؟» فَقَالَ: بِحَبِيسِ سَيْلٍ فَقَالَ: «أَخْرِجْ أَهْلَكَ مِنْهَا، فَقَدْ يُوشِكُ أَنْ يَخرُجَ مِنْهُ نَارٌ يُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى»
ترجمہ
(روایت میں کسی نے کہا:) تم نے ہم سے حبیسِ سیل کے بارے میں پوچھا تھا تو ہم نے کہا: ہمیں اس کا علم نہیں، اور یہ آدمی میرے پاس سے گزرا تو میں نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کے گھر والے وہاں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہارے گھر والے کہاں ہیں؟“ اس نے کہا: حبیسِ سیل میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو وہاں سے نکال لو، کیونکہ قریب ہے کہ وہاں سے ایسی آگ نکلے جو بصریٰ تک اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ البَلْويِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: اشْتَرَيْتُ أَنَا وَأَخِي مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ سِهَامِ خَيْبَرَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَاصِمُ مَا ذِئْبَانِ عَادِيَانِ أَصَابَا غَنَمًا أضَاعَهَا رَبُّهَا بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حُبِّ الْمَرْءِ الْمَالَ وَالشَّرَفَ لِدِينِهِ»
ترجمہ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اور میرے بھائی نے خیبر کے حصص میں سے سو حصے خرید لیے، جب یہ بات نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عاصم! دو بھوکے بھیڑیے کسی چھوڑی ہوئی بکریوں کی چراگاہ میں گھس جائیں، تو وہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا نقصان آدمی کے دین کو اس کے مال اور عزت کی محبت سے پہنچتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ} [النور: ٤] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَتَّى يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَدْ أَصَابَ الْخَائِنُ حَاجَتَهُ، قَالَ: فَمَا قَامَ حَتَّى جَاءَ ابْنُ عَمِّهِ أَخُو أَبِيهِ وَامْرَأَتُهُ مَعَهُ تَحْمِلُ صَبِيًّا وَهِيَ تَقُولُ: هُوَ مِنْكَ، وَهُوَ يَقُولُ: لَيْسَ مِنِّي، قَالَ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُلَاعِنِ فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ، وَمَنِ ابْتُلِيَ بِهِ
ترجمہ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ [سورۃ النور: 4] تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! چار گواہ لانے تک تو خیانت کرنے والا اپنی حاجت پوری کر چکا ہوتا ہے۔ (کہتے ہیں) آپ ﷺ ابھی کھڑے بھی نہ ہوئے تھے کہ ان کا چچا زاد بھائی (جو ان کے والد کا بھائی تھا) اپنی بیوی کے ساتھ آیا، جو ایک بچہ اٹھائے کہہ رہی تھی: یہ تمہارا ہے، اور وہ کہہ رہا تھا: یہ میرا نہیں ہے۔ کہتے ہیں: تو آیتِ لعان نازل ہوئی، اور میں اس بارے میں بات کرنے والا پہلا شخص تھا، اور جو اس میں مبتلا ہوا وہ (میرا قریبی) تھا۔