❮
❯
حدیث نمبر: 14530
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَمِّعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْبَدَّاحِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِدْثَانَ مَا قَدِمَ، فَقَالَ: أَيْنْ حَبِيسُ سَيْلٍ؟ قُلْنَا: لَا نَدْرِي، فَمَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: مِنْ حَبِيسِ سَيْلٍ، فَدَعَوْتُ نَعْلِي فَانْحَدَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ سَأَلْتَنَا عَنْ حَبِيسِ سَيْلٍ فَقُلْنَا: لَا عَلِمَ لَنَا بِهِ، وَإِنَّهُ مَرَّ بِي هَذَا الرَّجُلُ فَسَأَلْتُهُ فَزَعَمَ أَنَّ بِهِ أَهْلَهُ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ: «أَيْنَ أَهْلُكَ؟» فَقَالَ: بِحَبِيسِ سَيْلٍ فَقَالَ: «أَخْرِجْ أَهْلَكَ مِنْهَا، فَقَدْ يُوشِكُ أَنْ يَخرُجَ مِنْهُ نَارٌ يُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى»
ترجمہ

سیدنا عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے فوراً بعد سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حبیسِ سیل کہاں ہے؟“ ہم نے کہا: ہمیں معلوم نہیں۔ پھر بنو سلیم کا ایک آدمی میرے پاس سے گزرا، میں نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: حبیسِ سیل سے۔ تو میں نے اپنا جوتا پہنا اور دوڑتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہم سے حبیسِ سیل کے بارے میں پوچھا تھا تو ہم نے کہا: ہمیں اس کا علم نہیں، اور یہ آدمی میرے پاس سے گزرا تو میں نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کے گھر والے وہاں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہارے گھر والے کہاں ہیں؟“ اس نے کہا: حبیسِ سیل میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو وہاں سے نکال لو، کیونکہ قریب ہے کہ وہاں سے ایسی آگ نکلے جو بصریٰ تک اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14530
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 173، حدیث 458