❮
❯
حدیث نمبر: 14532
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ} [النور: ٤] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَتَّى يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَدْ أَصَابَ الْخَائِنُ حَاجَتَهُ، قَالَ: فَمَا قَامَ حَتَّى جَاءَ ابْنُ عَمِّهِ أَخُو أَبِيهِ وَامْرَأَتُهُ مَعَهُ تَحْمِلُ صَبِيًّا وَهِيَ تَقُولُ: هُوَ مِنْكَ، وَهُوَ يَقُولُ: لَيْسَ مِنِّي، قَالَ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُلَاعِنِ فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ، وَمَنِ ابْتُلِيَ بِهِ
ترجمہ

سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿پھر وہ چار گواہ نہ لائیں﴾ [سورۃ النور: 4] تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! چار گواہ لانے تک تو خیانت کرنے والا اپنی حاجت پوری کر چکا ہوتا ہے۔ (کہتے ہیں) آپ ﷺ ابھی کھڑے بھی نہ ہوئے تھے کہ ان کا چچا زاد بھائی (جو ان کے والد کا بھائی تھا) اپنی بیوی کے ساتھ آیا، جو ایک بچہ اٹھائے کہہ رہی تھی: یہ تمہارا ہے، اور وہ کہہ رہا تھا: یہ میرا نہیں ہے۔ کہتے ہیں: تو آیتِ لعان نازل ہوئی، چنانچہ میں ہی سب سے پہلے اس بارے میں بات کرنے والا تھا، اور میں ہی اس میں آزمایا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14532
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 174، حدیث 460