کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: کثیر بن مرہ کی سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالْجِهَادُ وَالْهِجْرَةِ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن عمرو سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خلافت قریش میں ہے، حکومت (فیصلہ سازی) انصار میں ہے، دعوت (تبلیغ) حبشہ میں ہے، اور جہاد و ہجرت اس کے بعد مسلمانوں اور مہاجرین میں ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ: «مَنْ أدْخَلَ هَذَا الْحِصْنَ سَهْمًا فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» قَالَ عُتْبَةُ: «فَأَدْخَلْتُ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ»
ترجمہ
کثیر بن مرہ، عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے دن فرمایا: ”جو اس قلعے میں ایک تیر داخل کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے تین تیر داخل کیے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ حَدَثٌ فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» قُلْتُ: عَتَلَةُ بْنُ عَبْدٍ قَالَ: «أَنْتَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا، میں اس وقت ایک کم عمر لڑکا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: عتلہ بن عبد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم عتبہ بن عبد ہو۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرِنِي سَيْفَكَ» فَسَلَّهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا فِيهِ دِقَّةٌ وَضَعْفٌ فَقَالَ: «لَا تَضْرِبْ بِهَذَا وَلَكِنِ اطْعَنْ بِهِ طَعْنًا»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی تلوار دکھاؤ۔“ انہوں نے اسے نیام سے نکالا، آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو وہ باریک اور کمزور تھی، فرمایا: ”اس سے وار مت کرو بلکہ اس سے چبھو کر مارو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن عبد اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب حکمران لوگوں میں شکوک و شبہات تلاش کرنے لگے تو وہ انہیں بگاڑ دیتا ہے۔“