کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اور ان کے بیٹے سیدنا عدی بن عدی رضی اللہ عنہ کو بھی صحابیت حاصل ہے
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هِيَ أَرْضِي، وَقَالَ الْآخَرُ: هِيَ أَرْضِي حَرَثْتُهَا وَقَصَبْتُهَا «فأحْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِيَدِهِ الْأَرْضُ»
ترجمہ
دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک زمین کے بارے میں جھگڑتے ہوئے آئے، ایک نے کہا: یہ میری زمین ہے، دوسرے نے کہا: یہ میری زمین ہے، میں نے اسے جوتا اور اس پر گنا لگایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے قسم لی جس کے قبضے میں زمین تھی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» قِيلَ: فَمَنْ تَرَكَهُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «فَلَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن عدی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی مسلمان کے مال کے بارے میں جھوٹی قسم کھائے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اگر وہ اسے چھوڑ دے تو (اسے کیا ملے گا)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے جنت ملے گی۔“