کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أسْوَدُ كَأَنِّي أنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ: «وَمَا ذَاك؟» قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ آنِفًا: قَالَ: «وَأَنَا أَقُولُ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَجِيءَ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں، پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی زیادہ چیز چھپائے، تو یہ خیانت ہے، وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا۔“ اس پر انصار میں سے ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہوا - گویا میں اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں - اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری طرف سے اپنا کام واپس لے لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو ابھی جو فرماتے سنا وہی بات ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میں اب بھی وہی کہتا ہوں: تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں تو وہ اپنا تھوڑا اور زیادہ سب کچھ لے کر آئے، پھر اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے رک جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14328
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 106، حدیث 256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا زُهَيْرٌ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14329
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 106، حدیث 257
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں تو وہ اپنا تھوڑا اور زیادہ سب کچھ لے کر آئے، پھر اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے رک جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14330
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 106، حدیث 258
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14331
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 106، حدیث 259
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَغَلَّنَا مِخْيَطًا أَوْ مَا فَوْقَهُ كَانَ غُلًّا يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، فَقَامَ إِلَيهِ رَجُلٌ أسْوَدُ مِنَ الْأَزْدِ كَأَنِّي أنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ: «وَمَا لَكَ؟» فَقَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ: وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ: «مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں، پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ چیز میں خیانت کرے، تو یہ خیانت ہے، وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا۔“ اس پر ازد قبیلے کا ایک سیاہ فام شخص اٹھ کھڑا ہوا - گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں - اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری طرف سے اپنا کام واپس لے لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو ایسا ایسا فرماتے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں اب بھی یہی کہتا ہوں: ”تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں تو وہ اپنا تھوڑا اور زیادہ سب کچھ لے کر آئے، پھر اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے رک جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14332
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 107، حدیث 260
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الجذوعي، ثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ دَلَوَيْهِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14333
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 107، حدیث 261
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14334
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 107، حدیث 262
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَا: ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ ابْنِ حَرِيزٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
ترجمہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے بازو (پہلوؤں سے) اتنے جدا رکھتے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14335
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 108، حدیث 263
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَدِيٍّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا»
ترجمہ
سیدنا عدی بن عدی کندی رضی اللہ عنہ اپنے والد عدی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شادی شدہ عورت اپنے بارے میں خود اظہار کرے گی، اور کنواری کی رضامندی اس کی خاموشی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14336
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 108، حدیث 264
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ثَنَا، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثَنَا عَدِيُّ بْنُ عَدِيٍّ، ثَنَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، وَالْعُرْسُ بْنُ عُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: كَانَ بَيْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ وَبَيْنَ أَحَدٍ خُصُومَةٌ فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ الْحَضْرَمِيَّ الْبَيِّنَةَ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنْ أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ ذَهَبَتْ وَاللهِ أَرْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبًا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» قَالَ رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ: فَتَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] الْآيَةَ، قَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ: فَمَاذَا لِي إنْ تَرَكْتُهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْجَنَّةُ» ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي تَرَكْتُهَا
ترجمہ
(ایک زمین کے تنازع میں) حضرمی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے امرئ القیس کے قسم کھانے کا فیصلہ فرمایا۔ حضرمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ نے اسے قسم کھانے دی تو اللہ کی قسم میری زمین چلی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو جھوٹی قسم کھاتا ہے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“ رجاء بن حیوہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت خریدتے ہیں...“ [سورۃ آل عمران: 77]۔ امرئ القیس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے چھوڑ دوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت۔“ اس نے کہا: تو میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14337
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 108، حدیث 265