حدیث نمبر: 14328
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أسْوَدُ كَأَنِّي أنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ: «وَمَا ذَاك؟» قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ آنِفًا: قَالَ: «وَأَنَا أَقُولُ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَجِيءَ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»
ترجمہ

سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں، پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی زیادہ چیز چھپائے، تو یہ خیانت ہے، وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا۔“ اس پر انصار میں سے ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہوا - گویا میں اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں - اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری طرف سے اپنا کام واپس لے لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو ابھی جو فرماتے سنا وہی بات ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میں اب بھی وہی کہتا ہوں: تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں تو وہ اپنا تھوڑا اور زیادہ سب کچھ لے کر آئے، پھر اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے رک جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14328
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 106، حدیث 256