کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عباد بن حبیش کی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَذَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ وَكُنْتُ نَصْرَانِيًّا، وَجِئْتُ بِغَيْرِ أَمَانٍ وَلَا كِتَابٍ، فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَيْهِ أَخَذَ بِيَدِي وَقَدْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ: «إنِِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللهُ يَدَهُ فِي يَدِي» فَقَامَ بِي فَلَقِيتْهُ امْرَأَةٌ وَصَبِيٌّ مَعَهَا فَقَالَا: إِنَّ لَنَا إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهَا، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَى دَارَهُ فَأُلْقِيَتْ لَهُ وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا، وَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " لَمْ يَغُرَّكَ إلَّا أَنْ يُقَالَ: إِلَّا اللهُ فَهَلْ تَعْلَمُ منْ إِلَهٍ إِلَّا اللهَ؟ " ثُمَّ تَكَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا يَغُرُّكَ أَوْ يَضُرُّكَ إِلَّا أَنْ يُقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، فَهَلْ تَعْلَمُ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنَ اللهِ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: «إِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّ النَّصَارَى ضُلَّالٌ» قُلْتُ: فَإِنِّي حَنِيفٌ مُسْلِمٌ، فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ يَنْبَسِطُ فَرَحًا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَنَزَلَتْ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْتُ آتِيهِ طَرَفَيِ النَّهَارِ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ عَشِيَّةً إِذْ أَتَاهُ قَوْمٌ فِي ثِيَابٍ مِنْ صُوفٍ مِنْ هَذِهِ النِّمَارِ فَصَلَّى، ثُمَّ قَامَ فَحَثَّ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " بِصَاعٍ أَوْ نِصْفِ صَاعٍ أَوْ نَصِيفِهِ وَلَوْ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ يَقِي أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ أَوِ النَّارِ، وَلَوْ بِشِقِّ التَّمْرَةِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللهَ فَقَائِلٌ لَهُ مَا أَقُولُ لَكُمْ، أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ سَمْعًا وَبَصَرًا فَيَقُولُ: بَلَى فَيَقُولُ: أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَيْنَ مَا قَدَّمْتَ لِنَفْسِكَ، فَيَنْظُرُ أَمَامَهُ وَخَلْفَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا يَقِي بِهِ وَجْهَهُ، فليَوقِّي أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، فَإِنِّي لَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ نَاصِرُكُمْ وَمُعْطِيكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ فِيمَا بَيْنَ يَثْرِبَ وَالْحِيرَةِ وَأَكْثَرَ مَا يُخَافُ عَلَى مَطِيَّتِهَا السَّرَقُ " فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي: فَأَيْنَ لُصُوصُ طَيِّئٍ
ترجمہ
…لوگوں نے کہا: یہ عدی بن حاتم ہیں۔ (سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نصرانی تھا اور بغیر امان اور بغیر تحریری معاہدے کے آیا تھا۔ جب مجھے آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، اور اس سے پہلے آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”مجھے امید ہے کہ اللہ اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دے گا۔“ آپ ﷺ میرے ساتھ چلے تو ایک عورت ایک بچے کے ساتھ ملی، دونوں نے کہا: ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ﷺ اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری کر دی۔ پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر تشریف لائے، آپ ﷺ کے لیے ایک تکیہ ڈالا گیا تو آپ ﷺ اس پر بیٹھ گئے اور میں آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”کیا تمہیں صرف اسی بات نے دھوکے میں ڈالا ہے کہ 'اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں' کہا جاتا ہے؟ کیا تمہیں اللہ کے سوا کوئی معبود معلوم ہے؟“ پھر کچھ دیر بات کی، پھر فرمایا: ”کیا تمہیں صرف اسی بات نے دھوکہ یا تکلیف میں ڈالا ہے کہ 'اللہ اکبر' کہا جاتا ہے؟ کیا تمہیں اللہ سے بڑی کوئی چیز معلوم ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہودی مغضوب علیہم (جن پر غضب کیا گیا) ہیں، اور نصاریٰ گمراہ ہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو میں حنیف مسلمان ہوں۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں انصار کے ایک شخص کے ہاں ٹھہرا، اور میں دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) میں آپ ﷺ کے پاس آنے لگا۔ ایک شام جب میں آپ ﷺ کے پاس تھا کہ کچھ لوگ اونی چادروں میں ملبوس آئے، آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر کھڑے ہو کر ان کے لیے (صدقے کی) ترغیب دی، پھر فرمایا: ”ایک صاع سے، یا آدھے صاع سے، یا اس کے کچھ حصے سے، خواہ ایک مٹھی بھر ہی سے، تم میں سے ہر ایک اپنے چہرے کو جہنم کی گرمی یا آگ سے بچائے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک اللہ سے ملاقات کرنے والا ہے اور وہ اس سے وہی کہے گا جو میں تم سے کہہ رہا ہوں: کیا میں نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی صلاحیت نہیں دی؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا: کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہیں دی؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا: تو تم نے اپنے لیے کیا آگے بھیجا؟ وہ اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں دیکھے گا تو اسے اپنے چہرے کو بچانے کے لیے کچھ نہ ملے گا۔ پس تم میں سے ہر ایک اپنے چہرے کو آگ سے بچائے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے، اور اگر یہ میسر نہ ہو تو ایک اچھی بات ہی سے۔ مجھے تم پر مفلسی کا خوف نہیں، کیونکہ اللہ عزوجل تمہاری مدد کرنے والا اور تمہیں عطا کرنے والا ہے، یہاں تک کہ یثرب اور حیرہ کے درمیان (اکیلی) عورت سفر کرے گی اور اس کی سواری پر سب سے بڑا خوف صرف چوری کا ہو گا۔“ میں اپنے دل میں کہنے لگا: پھر طی (قبیلے) کے ڈاکو کہاں گئے (یعنی ایسا کیسے ممکن ہو گا)؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ قَالَ: جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَو رُسُلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَقْرَبٍ فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفُّوا لَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَأَى الْوَافِدُ وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرٌ وَمَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ، قَالَ: وَمَنْ وَافِدُكِ؟ قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: أَيِ الَّذِي فَرَّ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ، قَالَتْ: فَمُنَّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ فَقَالَ: سَلِيهِ حِمْلَانًا، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ بِأَتَانٍ فَقُلْتُ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا، فَقَالَتْ: ائْتِهِ رَاغِبًا أَو رَاهِبًا، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَو صَبِيٌّ فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مَلِكَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فَقَالَ: يَا عَدِيُّ، " مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: لَا إِلَهَ إلَّا اللهُ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إلَّا اللهُ؟ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فَهَلْ مِنْ شَيْءٍ أَكْبَرُ مِنَ اللهِ؟ " فَأَسْلَمْتُ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ وَقَالَ: «إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ الْيَهُودُ وإنَّ الضَّالِّينَ النَّصَارَى» ثُمَّ جَاءَهُ نَاسٌ فَسَأَلُوهُ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَلَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ، ارْتَضَخَ امْرُؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ بِقَبْضَةٍ» قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللهَ فَقَائِلٌ: أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا، أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَلَا يَتَّقِي النَّارَ إلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ، لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللهُ، وَلَيُعْطِيَنَّكُمْ أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ ويَثْرِبَ أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَى ظَعِينَتِهَا السَّرَقَ "
ترجمہ
”تمہیں کس بات نے (اسلام لانے سے) روکا ہے؟ کیا یہ کہ 'اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں' کہا جاتا ہے؟ تو کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ تمہیں کس بات نے روکا ہے کہ 'اللہ اکبر' کہا جاتا ہے؟ تو کیا اللہ سے بڑی بھی کوئی چیز ہے؟“ چنانچہ میں مسلمان ہو گیا، اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مغضوب علیہم یہود ہیں اور ضالین نصاریٰ ہیں۔“ پھر کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”حمد و ثنا کے بعد، اے لوگو! تمہیں چاہیے کہ اپنی زیادتی (مال) میں سے تھوڑا سا ہی دے دو، ایک صاع سے، یا آدھے صاع سے، یا ایک مٹھی سے۔“ (شعبہ کہتے ہیں: میرا زیادہ گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک کھجور سے، یا کھجور کے ایک ٹکڑے سے) ”کیونکہ تم میں سے ہر ایک اللہ سے ملاقات کرنے والا ہے اور وہ اس سے کہے گا: کیا میں نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی صلاحیت نہیں دی؟ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہیں دی؟ تو تم نے کیا آگے بھیجا؟ وہ اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں دیکھے گا تو اسے کچھ نہ ملے گا، اور وہ اپنے چہرے کے سوا آگ سے کچھ نہ بچا سکے گا۔ پس آگ سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے، اور اگر یہ میسر نہ ہو تو ایک اچھی بات ہی سے۔ مجھے تم پر مفلسی کا خوف نہیں، اللہ ضرور تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں عطا کرے گا، یا تمہارے لیے (فتوحات کے دروازے) کھول دے گا، یہاں تک کہ حیرہ اور یثرب کے درمیان (اکیلی) عورت سفر کرے گی اور اس کی سواری پر سب سے بڑا خوف صرف چوری کا ہو گا۔“