المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عباد بن حبيش، عن عدي بن حاتم باب: عباد بن حبیش کی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ قَالَ: جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَو رُسُلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَقْرَبٍ فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفُّوا لَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَأَى الْوَافِدُ وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرٌ وَمَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ، قَالَ: وَمَنْ وَافِدُكِ؟ قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: أَيِ الَّذِي فَرَّ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ، قَالَتْ: فَمُنَّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ فَقَالَ: سَلِيهِ حِمْلَانًا، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ بِأَتَانٍ فَقُلْتُ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا، فَقَالَتْ: ائْتِهِ رَاغِبًا أَو رَاهِبًا، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَو صَبِيٌّ فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مَلِكَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فَقَالَ: يَا عَدِيُّ، " مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: لَا إِلَهَ إلَّا اللهُ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إلَّا اللهُ؟ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فَهَلْ مِنْ شَيْءٍ أَكْبَرُ مِنَ اللهِ؟ " فَأَسْلَمْتُ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ وَقَالَ: «إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ الْيَهُودُ وإنَّ الضَّالِّينَ النَّصَارَى» ثُمَّ جَاءَهُ نَاسٌ فَسَأَلُوهُ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَلَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ، ارْتَضَخَ امْرُؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ بِقَبْضَةٍ» قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللهَ فَقَائِلٌ: أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا، أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَلَا يَتَّقِي النَّارَ إلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ، لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللهُ، وَلَيُعْطِيَنَّكُمْ أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ ويَثْرِبَ أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَى ظَعِينَتِهَا السَّرَقَ "سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے گھڑ سوار - یا رسول اللہ ﷺ کے قاصد - عقرب (کے مقام) پر آئے اور میری پھوپھی اور کچھ لوگوں کو پکڑ لیا۔ جب وہ انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لائے تو انہیں آپ ﷺ کے سامنے صف میں کھڑا کیا گیا۔ میری پھوپھی نے کہا: یا رسول اللہ! (میری طرف سے) آنے والا دور چلا گیا، اولاد کا سلسلہ کٹ گیا، میں بہت بوڑھی ہوں اور مجھ میں خدمت کی سکت نہیں، لہٰذا مجھ پر احسان فرمائیے، اللہ عزوجل آپ پر احسان فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری طرف سے آنے والا کون ہے؟ اس نے کہا: عدی بن حاتم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگ گیا؟ وہ کہتی ہیں: پھر آپ ﷺ نے مجھ پر احسان فرمایا (اور رہا کر دیا)۔ جب آپ ﷺ لوٹے تو آپ ﷺ کے پہلو میں ایک شخص تھا جس کے بارے میں وہ سمجھتی تھیں کہ وہ علی ہیں، اس نے کہا: آپ ﷺ سے سواری مانگو۔ وہ کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ سے مانگی تو آپ ﷺ نے ایک گدھی (دینے) کا حکم دیا۔ (پھر عدی کے پاس آ کر) میں نے کہا: تم نے ایسا کام کیا ہے جو تمہارے والد نہیں کیا کرتے تھے۔ اور انہوں نے کہا: ان کے پاس رغبت سے یا ڈر سے (جیسے بھی ہو) چلے جاؤ، فلاں ان کے پاس گیا تو اس نے ان سے (بھلائی) پائی، اور فلاں گیا تو اس نے بھی ان سے (بھلائی) پائی۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک عورت اور کچھ بچے یا ایک بچہ ہے، اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ان کی قربت کا ذکر کیا، تو میں جان گیا کہ آپ کسریٰ اور قیصر جیسے بادشاہ نہیں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عدی! ”تمہیں کس چیز نے (اسلام سے) بھگایا؟ یہ کہ 'اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں' کہا جائے؟ تو کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ تمہیں کس چیز نے بھگایا؟ یہ کہ 'اللہ اکبر' کہا جائے؟ تو کیا اللہ سے بڑی بھی کوئی چیز ہے؟“ چنانچہ میں مسلمان ہو گیا، اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مغضوب علیہم یہود ہیں اور ضالین نصاریٰ ہیں۔“ پھر کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”حمد و ثنا کے بعد، اے لوگو! تمہیں چاہیے کہ اپنی زیادتی (مال) میں سے تھوڑا سا ہی دے دو، ایک صاع سے، صاع کے کچھ حصے سے، ایک مٹھی سے۔“ (شعبہ کہتے ہیں: میرا زیادہ گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک کھجور سے، یا کھجور کے ایک ٹکڑے سے) ”کیونکہ تم میں سے ہر ایک اللہ سے ملاقات کرنے والا ہے اور وہ اس سے کہے گا: کیا میں نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی صلاحیت نہیں دی؟ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہیں دی؟ تو تم نے کیا آگے بھیجا؟ وہ اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں دیکھے گا تو اسے کچھ نہ ملے گا، پھر وہ آگ سے اپنے چہرے ہی کے ذریعے بچاؤ کرے گا۔ پس آگ سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے، اور اگر یہ میسر نہ ہو تو ایک اچھی بات ہی سے۔ مجھے تم پر مفلسی کا خوف نہیں، اللہ ضرور تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں عطا کرے گا، یا تمہارے لیے (فتوحات کے دروازے) کھول دے گا، یہاں تک کہ حیرہ اور یثرب کے درمیان (اکیلی) عورت سفر کرے گی اور اس کی سواری پر سب سے بڑا خوف صرف چوری کا ہو گا۔“