کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عروہ بن زبیر کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَلَا الْمَصَّتَانِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک بار یا دو بار دودھ پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ، وَلَا الْمَصَّتَانِ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک بار دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، اور نہ دو بار دودھ پینے سے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخرَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: «وَدِدْتُ أن رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانَا النِّدَاءَ» ، قُلْتُ: لِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: «لِأنَّهُمْ أَطْوَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میری خواہش ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں اذان دینے کی سعادت عطا فرماتے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ایسا کیوں؟ فرمایا: ”کیونکہ قیامت کے دن اہلِ جنت میں مؤذنین کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُعْمِرَهَا، وَالرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا، سَبِيلُهَا سَبِيلُ الْمِيرَاثِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عُمریٰ (زندگی بھر کے لیے دی گئی چیز) اُسی کے لیے جائز ہے جسے دی جائے، اور رُقبیٰ بھی اُسی کے لیے جائز ہے جسے دی جائے، اور اُس کا حکم میراث کے حکم جیسا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فِي قَوْلِ اللهِ {خُذِ الْعَفْوَ} [الأعراف: ١٩٩] ، قَالَ: «أَمَرَ اللهُ نَبِيَّهُ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”خُذِ الْعَفْوَ“ [سورۃ الاعراف: 199] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے نرمی و درگزر والا رویہ اختیار کریں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي النَّجَاشِيِّ: {وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ} [المائدة: ٨٣] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی: ”اور جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں“ [سورۃ المائدة: 83]۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنِيفَةُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: «مَنْ يَأْكُلِ الْغُرَابَ وَقَدْ سَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسِقًا؟»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”کوّا کون کھائے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے فاسق قرار دیا ہے؟“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرَحَ الْمَاءُ، فَأَبَى عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ» ، فَغَضِبَ الْأَنْصَاريُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجِذْرِ» ، قَالَ الزُّبَيْرُ: فَوَاللهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] الْآيَةَ
ترجمہ
(سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ) رسول اللہ ﷺ کے پاس حرہ کی اُن پانی کی نالیوں کے بارے میں جھگڑا پیش ہوا جن سے کھجوروں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ ایک انصاری صحابی نے کہا: پانی چھوڑ دو، مگر زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! تم پانی دے لو، پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔“ اس پر انصاری کو غصہ آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اس لیے (آپ نے ان کے حق میں فیصلہ کیا) کہ وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! تم پانی دے لو، پھر پانی روک لو یہاں تک کہ وہ (کھجور کی جڑوں کی) منڈیر تک واپس آ جائے۔“ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی: ”پس تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے جھگڑوں میں تجھے حَکم نہ بنا لیں“ [سورۃ النساء: 65]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرَوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ حَوَارِيَّ مِنْ أُمَّتِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے، اور میری امت میں میرا حواری زبیر ہے۔“