المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عروة بن الزبير، عن عبد الله بن الزبير باب: عروہ بن زبیر کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرَحَ الْمَاءُ، فَأَبَى عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ» ، فَغَضِبَ الْأَنْصَاريُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجِذْرِ» ، قَالَ الزُّبَيْرُ: فَوَاللهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] الْآيَةَ(سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ) رسول اللہ ﷺ کے پاس حرہ کی اُن پانی کی نالیوں کے بارے میں جھگڑا پیش ہوا جن سے کھجوروں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ ایک انصاری صحابی نے کہا: پانی چھوڑ دو، مگر زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! تم پانی دے لو، پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔“ اس پر انصاری کو غصہ آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اس لیے (آپ نے ان کے حق میں فیصلہ کیا) کہ وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! تم پانی دے لو، پھر پانی روک لو یہاں تک کہ وہ (کھجور کی جڑوں کی) منڈیر تک واپس آ جائے۔“ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی: ”پس تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے جھگڑوں میں تجھے حَکم نہ بنا لیں“ [سورۃ النساء: 65]۔