کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عمر بن حکیم بن ثوبان کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُمْهُورٍ السِّمْسَارُ التِّنِّيسِيُّ، قَالَ: ثنا دُحَيْمٌ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: «كَيْفَ بِكُمْ إِذَا جَاءَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ فِيهِ النَّاسُ غَرْبَلَةً، وَبَقِيتُمْ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ، وَضَيَّعُوا أَمَانَاتِهِمْ، فَعَادُوا هَكَذَا» ، وَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهُمْ فِي بَعْضٍ، فَقَالُوا: كَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَعَلَيْكُمْ بِخَوَاصِّكُمْ، وَدَعُوا عَوَامَّكُمْ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسا زمانہ آئے گا جس میں لوگوں کو خوب چھانا جائے گا، اور تم لوگوں کے نکمے طبقے میں رہ جاؤ گے، جن کے عہد بگڑ چکے ہوں گے اور انہوں نے اپنی امانتیں ضائع کر دی ہوں گی، اور وہ اس طرح ہو جائیں گے“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم وہ لے لو گے جو (اچھا) جانتے ہو، اور جو برا سمجھو اسے چھوڑ دو گے، اپنے خاص لوگوں کا خیال رکھو اور اپنے عام لوگوں کو چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا ابْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ: ثنا أَبِي قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
اسی طرح کی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسا زمانہ آئے گا جس میں لوگوں کو خوب چھانا جائے گا، اور تم لوگوں کے نکمے طبقے میں رہ جاؤ گے، جن کے عہد بگڑ چکے ہوں گے اور انہوں نے اپنی امانتیں ضائع کر دی ہوں گی، اور وہ اس طرح ہو جائیں گے“، ”تم وہ لے لو گے جو (اچھا) جانتے ہو، اور جو برا سمجھو اسے چھوڑ دو گے، اپنے خاص لوگوں کا خیال رکھو اور اپنے عام لوگوں کو چھوڑ دو۔“