حدیث نمبر: 13605
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا عِيسَى بْنُ سَالِمٍ الشَّاشِيُّ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتِلَافُ أَعْنَاقِهُمْ، وَصَارُوا هَكَذَا» ، وَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ: كَيْفَ الْمَخْرَجُ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «خُذْ بِمَا عَرَفْتَ، وَدَعْ مَا أَنْكَرْتَ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَإِيَّاكَ مِنْ عَوَامِّهِمْ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے نکمے طبقے میں رہ جاؤ گے، جن کے عہد اور امانتیں بگڑ چکی ہوں گی، اور ان کی راہیں جدا جدا ہو چکی ہوں گی، اور وہ اس طرح ہو جائیں گے“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں مختلف انداز سے ایک دوسرے میں ڈالیں۔ عرض کیا: یا رسول اللہ، (اس سے) نکلنے کا راستہ کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو جانتے ہو اسے لے لو، اور جو برا سمجھو اسے چھوڑ دو، اپنی ذات کے خاص معاملے کی فکر کرو، اور عام لوگوں (کے معاملات) سے بچو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13605
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 11، حدیث 8