حدیث نمبر: 13602
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بنُ صَالِحٍ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَيْفَ بِكُمْ فِي زَمَانٍ، أَوْ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً، وَتَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا وَكَانُوا هَكَذَا» ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالُوا: كَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ، وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ، وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اس زمانے میں کیا حال ہوگا، یا عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں لوگوں کو خوب چھانٹا جائے گا، اور لوگوں کا نکما طبقہ باقی رہ جائے گا، جن کے عہد اور امانتیں ڈھیلی پڑ چکی ہوں گی، اور وہ اختلاف کا شکار ہوں گے اور اس طرح ہو جائیں گے“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر لیں۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہمارا اس وقت کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم وہ لے لو گے جو (اچھا) جانتے ہو، اور جو برا سمجھو اسے چھوڑ دو گے، اور اپنے خاص معاملے کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے اور اپنے عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13602
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 10، حدیث 5