کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جبیر بن ابی سلیمان بن جبیر بن مطعم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَزَعَمَ أَنَّهُ: كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِهِ فَتًى شَابٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ صَنْعَانِيَّةٌ يَجُرُّهَا مُسْبِلًا، فَقَالَ: يَا فَتًى هَلُمَّ، فَقَالَ لَهُ الْفَتَى: مَا حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: وَيْحَكَ تُحِبُّ أَنْ يَنْظُرَ اللهُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحِبَّ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَى عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجُرُّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ» قَالَ: «فَلَمْ يُرَ ذَلِكَ الْفَتَى إِلَّا مُشَمِّرًا حَتَّى مَاتَ»
ترجمہ
جبیر بن ابی سلیمان بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کے پاس سے ایک نوجوان گزرا جس نے صنعانی جبہ پہن رکھا تھا اور اسے گھسیٹتے ہوئے چل رہا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے نوجوان! ادھر آؤ۔ نوجوان نے کہا: آپ کو کیا ضرورت ہے، اے ابو عبدالرحمٰن؟ انہوں نے کہا: افسوس ہے تجھ پر! کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ قیامت کے دن تمہاری طرف نظر (رحمت) فرمائے؟ اس نے کہا: سبحان اللہ! مجھے اس کی خواہش کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اللہ قیامت کے دن اس بندے کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا جو تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹتا ہو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ نوجوان مرتے دم تک اپنا کپڑا اونچا کیے ہوئے ہی دیکھا گیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ: كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ حِينَ يُصْبِحُ، وَحِينَ يُمْسِي لَمْ يَدَعْهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا، وَحَتَّى مَاتَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ، وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهِلِّي وَمَالِي، اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» قَالَ جُبَيْرٌ: «وَهُوَ الْخَسْفُ» فَلَا أَدْرِي قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَوْلَ جُبَيْرٍ؟ "
ترجمہ
جبیر بن ابی سلیمان بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے تھے تو انہوں (ابن عمر) نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو صبح و شام اپنی دعا میں یہ کہتے سنا، اور آپ ﷺ اسے دنیا سے رخصت ہونے اور وفات پانے تک نہیں چھوڑتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، دنیا، گھر والوں اور مال میں عافیت اور درگزر کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری پردہ پوشی فرما، اور میرے خوف کو امن میں بدل دے۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما میرے آگے سے، اور میرے پیچھے سے، اور میرے دائیں سے، اور میرے بائیں سے، اور میرے اوپر سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ نیچے سے دھنسا دیا جاؤں۔“ جبیر بیان کرتے ہیں: ”اور وہ (نیچے سے دھنسائے جانے) سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے،“ مجھے نہیں معلوم یہ رسول اللہ ﷺ کا قول تھا یا جبیر کا اپنا۔