❮
❯
حدیث نمبر: 13239
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ: كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ حِينَ يُصْبِحُ، وَحِينَ يُمْسِي لَمْ يَدَعْهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا، وَحَتَّى مَاتَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ، وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهِلِّي وَمَالِي، اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» قَالَ جُبَيْرٌ: «وَهُوَ الْخَسْفُ» فَلَا أَدْرِي قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَوْلَ جُبَيْرٍ؟ "
ترجمہ

جبیر بن ابی سلیمان بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے تھے تو انہوں (ابن عمر) نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو صبح و شام اپنی دعا میں یہ کہتے سنا، اور آپ ﷺ اسے دنیا سے رخصت ہونے اور وفات پانے تک نہیں چھوڑتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، دنیا، گھر والوں اور مال میں عافیت اور درگزر کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری پردہ پوشی فرما، اور میرے خوف کو امن میں بدل دے۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما میرے آگے سے، اور میرے پیچھے سے، اور میرے دائیں سے، اور میرے بائیں سے، اور میرے اوپر سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ نیچے سے دھنسا دیا جاؤں۔“ جبیر بیان کرتے ہیں: ”اور وہ (نیچے سے دھنسائے جانے) سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے،“ مجھے نہیں معلوم یہ رسول اللہ ﷺ کا قول تھا یا جبیر کا اپنا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13239
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 343، حدیث 13296