المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قدامة بن إبراهيم الجحمي، عن ابن عمر باب: قدامہ بن ابراہیم جحمی کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا، مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى الْعُمَرِيِّينَ، قَالَ: سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ: " أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللهِ، قَالَ: يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ، فَأُعْضِلَتْ عَلَى الْمَلَكَيْنِ فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَكْتُبَانِهَا؟ فَصَعِدَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَا: يَا رَبَّنَا إِنَّ عَبْدَكَ، قَالَ مَقَالَةً لَا نَدْرِي كَيْفَ نَكْتُبُهَا، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُهُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ قَالَا: يَا رَبُّ إِنَّهُ، قَالَ: يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكِ، وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا: اكْتُبَاهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي حَتَّى يَلْقَانِي عَبْدِي فَأَجْزِيَهُ بِهَا "سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے کہا: ”اے میرے رب! تیرے لیے ایسی حمد ہے جیسی تیرے چہرے کے جلال اور تیرے عظیم اقتدار کے لائق ہے۔“ تو دونوں فرشتوں کے لیے یہ لکھنا مشکل ہو گیا اور وہ سمجھ نہ سکے کہ اسے کیسے لکھیں۔ چنانچہ وہ آسمان کی طرف چڑھے اور عرض کیا: اے ہمارے رب! تیرے بندے نے ایسی بات کہی ہے جسے ہم نہیں جانتے کیسے لکھیں۔ اللہ عزوجل نے، جو اپنے بندے کی بات کو خوب جانتا تھا، پوچھا: میرے بندے نے کیا کہا؟ انہوں نے عرض کیا: اے رب! اس نے کہا: ”اے میرے رب! تیرے لیے ایسی حمد ہے جیسی تیرے چہرے کے جلال اور تیرے عظیم اقتدار کے لائق ہے۔“ تو اللہ عزوجل نے ان دونوں سے فرمایا: ”اسے ویسے ہی لکھو جیسے میرے بندے نے کہا ہے، یہاں تک کہ میرا بندہ مجھ سے ملاقات کرے تو میں اسے اس کا بدلہ دوں۔“