کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حکیم بن ابی حرہ اسلمی کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الْأَسْلَمِيُّ، أَنَّهُ: سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ سَمَّاهُ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ فِيهِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ أَضْحًى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ، أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَلَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَلَا يَأْمُرُ بِصِيَامِهِمَا»
ترجمہ
حکیم بن ابی حرہ اسلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھتے سنا جس نے یہ نذر مانی تھی کہ ایک مقررہ دن اس پر ایسا نہیں گزرے گا کہ وہ اس میں روزہ نہ رکھے، اور وہ دن عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے موافق آ گیا۔ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے، ”رسول اللہ ﷺ نہ عید الاضحیٰ کے دن روزہ رکھتے تھے اور نہ عید الفطر کے دن، اور نہ ہی ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَكِيمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَفْتِي ابْنَ عُمَرَ فِي رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا فِي يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهِ ذَلِكَ الْيَوْمُ إِلَّا، وَهُوَ صَائِمٌ فَوَافَقَ ذَلِكَ الْيَوْمُ يَوْمَ الْأَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ , ثُمَّ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ يَصُومُ يَوْمَ فِطْرٍ، وَلَا يَوْمَ أَضْحًى، وَلَا يَرَى صِيَامَهُ حَقًّا»
ترجمہ
حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں مسئلہ پوچھتے سنا جس نے کسی دن یہ نذر مانی تھی کہ وہ دن اس پر ایسے نہیں گزرے گا کہ وہ روزہ دار نہ ہو، اور وہ دن عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے موافق آ گیا۔ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے، پھر فرمایا: ”آپ ﷺ نہ عید الفطر کے دن روزہ رکھتے تھے اور نہ عید الاضحیٰ کے دن، اور نہ اس دن روزہ رکھنے کو درست سمجھتے تھے۔“