❮
❯
حدیث نمبر: 13225
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَكِيمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَفْتِي ابْنَ عُمَرَ فِي رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا فِي يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهِ ذَلِكَ الْيَوْمُ إِلَّا، وَهُوَ صَائِمٌ فَوَافَقَ ذَلِكَ الْيَوْمُ يَوْمَ الْأَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ , ثُمَّ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ يَصُومُ يَوْمَ فِطْرٍ، وَلَا يَوْمَ أَضْحًى، وَلَا يَرَى صِيَامَهُ حَقًّا»
ترجمہ

حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں مسئلہ پوچھتے سنا جس نے کسی دن یہ نذر مانی تھی کہ وہ دن اس پر ایسے نہیں گزرے گا کہ وہ روزہ دار نہ ہو، اور وہ دن عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے موافق آ گیا۔ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے، پھر فرمایا: ”آپ ﷺ نہ عید الفطر کے دن روزہ رکھتے تھے اور نہ عید الاضحیٰ کے دن، اور نہ اس دن روزہ رکھنے کو درست سمجھتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13225
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 337، حدیث 13282