❮
❯
حدیث نمبر: 13224
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الْأَسْلَمِيُّ، أَنَّهُ: سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ سَمَّاهُ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ فِيهِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ أَضْحًى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ، أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَلَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَلَا يَأْمُرُ بِصِيَامِهِمَا»
ترجمہ

حکیم بن ابی حرہ اسلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھتے سنا جس نے یہ نذر مانی تھی کہ ایک مقررہ دن اس پر ایسا نہیں گزرے گا کہ وہ اس میں روزہ نہ رکھے، اور وہ دن عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے موافق آ گیا۔ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے، ”رسول اللہ ﷺ نہ عید الاضحیٰ کے دن روزہ رکھتے تھے اور نہ عید الفطر کے دن، اور نہ ہی ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13224
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 337، حدیث 13281