المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد الله بن عبد الله، عن أبيه باب: عبیداللہ بن عبداللہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 13189
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ: سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَفَاتِحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ» ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: ٣٤]ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”بےشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو رحموں میں ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا، بےشک اللہ خوب جاننے والا خبر رکھنے والا ہے“ [سورۃ لقمان: 34]۔