کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: موسیٰ بن سلمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ: أَكُونُ بِمَكَّةَ كَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: «رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں مکہ میں ہوں تو کیسے نماز پڑھوں؟ انہوں نے کہا: ”دو رکعتیں پڑھو، یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ فَقُلْنَا: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: «تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ»
ترجمہ
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ میں تھے تو ہم نے کہا: جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں، اور جب اپنی قیام گاہوں کو لوٹتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے، خواہ تمہیں ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَطَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالَا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّلَاةِ، بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ: «رَكْعَتَانِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابطح میں نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ”دو رکعتیں، یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ عَلَى بَدَنَتَيْنِ فَإِنْ خِفْنَا عَلَيْنَا فَعَيَيْنَا بِشَأْنِهِمَا , فَقَالَ سِنَانٌ: لَوْ قَدِمْنَا الْبَلَدَ بَحَثْنَا، عَنْ عِلْمِ هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْتُ: هَلْ لَكَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ السِّقَايَةِ نَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ؟ فَسَأَلَهُ سِنَانٌ عَنْ أَمْرِ بَدَنَتَيْهِ فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ، وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهُنَّ شَيْءٌ؟ قَالَ: «تَنْحَرُهَا ثُمَّ تَغْمِسُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ تَضْرِبُ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ أَوْ مِنْ أَصْحَابِكَ»
ترجمہ
…اور آپ ﷺ نے اس کے ساتھ اٹھارہ قربانی کے اونٹ بھیجے، تو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی راستے میں چلنے سے عاجز ہو جائے تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کر دو، پھر اس کے قلادے کو اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پہلو پر لگا دو، اور نہ تم خود اس میں سے کھاؤ اور نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی کریم ﷺ کے حوالے سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی کریم ﷺ کے حوالے سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔