المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
موسى بن سلمة، عن ابن عباس باب: موسیٰ بن سلمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ عَلَى بَدَنَتَيْنِ فَإِنْ خِفْنَا عَلَيْنَا فَعَيَيْنَا بِشَأْنِهِمَا , فَقَالَ سِنَانٌ: لَوْ قَدِمْنَا الْبَلَدَ بَحَثْنَا، عَنْ عِلْمِ هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْتُ: هَلْ لَكَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ السِّقَايَةِ نَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ؟ فَسَأَلَهُ سِنَانٌ عَنْ أَمْرِ بَدَنَتَيْهِ فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ، وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهُنَّ شَيْءٌ؟ قَالَ: «تَنْحَرُهَا ثُمَّ تَغْمِسُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ تَضْرِبُ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ أَوْ مِنْ أَصْحَابِكَ»موسیٰ بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور سنان بن سلمہ رضی اللہ عنہ دو قربانی کے اونٹوں کے ساتھ نکلے، اور ہمیں خدشہ تھا کہ اگر ان میں سے کوئی راستے میں عاجز ہو جائے تو ہم اس کا کیا کریں، اس بارے میں ہم پریشان تھے۔ سنان نے کہا: اگر ہم شہر پہنچیں تو اس کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ جب ہم پہنچے تو میں نے کہا: کیا تم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سقایہ پر چلنا چاہو گے تاکہ ہم ان سے بات کریں؟ چنانچہ سنان نے ان سے اپنے دونوں اونٹوں کا معاملہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم نے صحیح جگہ پوچھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فلاں اسلمی کو بھیجا اور اس کے ساتھ اٹھارہ قربانی کے اونٹ بھیجے، تو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی راستے میں چلنے سے عاجز ہو جائے تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کر دو، پھر اس کے قلادے کو اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پہلو پر لگا دو، اور نہ تم خود اس میں سے کھاؤ اور نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی۔“