کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوالصہباء صہیب، اہل بصرہ میں سے ایک صاحب، کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَرَرْتُ أَنَا وَغُلَامٌ، مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى حِمَارٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانُ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبُ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ , فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ يَنْصَرِفْ» هَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ، وَخَالَفَهُ مَنْصُورٌ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں اور قریش کا ایک لڑکا گدھے پر سوار رسول اللہ ﷺ کے آگے سے گزرے جبکہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے نماز ختم نہیں کی۔ پھر بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں اور آپ ﷺ کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، تو آپ ﷺ نے انہیں الگ الگ کر دیا اور نماز ختم نہیں کی۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے شعبہ نے حکم سے، انہوں نے یحییٰ بن جزار سے، انہوں نے صہیب سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ منصور نے اس میں ان سے اختلاف کیا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12835
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 201، حدیث 12891
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ، وَمَعِي رِدْفٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي أَرْضٍ خَلَاءٍ فَنَزَلْنَا، ثُمَّ جِئْنَا حَتَّى دَخَلْنَا فِي الصَّلَاةِ، وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ قُدَّامَهُمْ فَمَا بَالَى ذَلِكَ، وَأَقْبَلَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشَتَدَّانِ يَتْبَعُ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى حَتَّى انْتَهَتَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ يُصَلِّي , فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا فَمَا بَالَى ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں گدھے پر سوار آیا، اور میرے ساتھ بنو عبدالمطلب کا ایک بچہ پیچھے بیٹھا تھا، اور رسول اللہ ﷺ ایک خالی میدان میں نماز پڑھ رہے تھے، تو ہم اترے، پھر آئے اور نماز میں شامل ہو گئے، اور گدھے کو ان کے آگے چھوڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ پھر بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں، ایک دوسرے کے پیچھے، یہاں تک کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچ گئیں جبکہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے انہیں الگ الگ کر دیا اور اس کی کوئی پروا نہ کی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12836
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 201، حدیث 12892